سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 260 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 260

ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میر امرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔اس جگہ جو خدا کی راہ میں اور بندوں کی بھلائی کے لئے مرنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ جاہلوں یا دیوانوں کی طرح در حقیقت خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔اس وہم سے کہ اپنے تئیں کسی آلہ سے قتل کے ذریعہ سے ہلاک کر دینا اوروں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ آپ ان بیہودہ باتوں کے سخت مخالف تھے اور قرآن ایسی خود کشی کے مرتکب کو سخت مجرم اور قابل سز ا ٹھہراتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقره: 196) یعنی خود کشی نہ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے باعث نہ ٹھہرو اور یہ ظاہر ہے کہ اگر مثلاً خالد کے پیٹ میں درد ہو اور زید اس پر رحم کر کے اپنا سر پھوڑے تو زید نے خالد کے حق میں کوئی نیکی کا کام نہیں کیا بلکہ اپنے سر کو احمقانہ حرکت سے ناحق پھوڑا۔نیکی کا کام تب ہو تا کہ جب زید خالد کے خدمت میں مناسب اور مفید طریق کے ساتھ سرگرم رہتا۔اور اس کے لئے عمدہ دوائیں میسر کرتا اور طبابت کے قواعد کے موافق اس کا علاج کرتا۔مگر اس کے سر کے پھوڑنے سے زید کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ناحق اس نے اپنے وجود کے ایک شریف عضو کو دکھ پہنچایا۔غرض اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ہمدردی اور محنت اٹھانے سے بنی نوع کی رہائی کے لئے جان کو وقف کر دیا تھا اور دُعا کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ (فاطر: 9) کیا تو اس غم اور اس سخت محنت میں جو لوگوں کے لئے اٹھا رہا ہے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا؟ اور کیا ان لوگوں کے لئے جو حق کو قبول نہیں کرتے تو حسرتیں کھا کھا کر اپنی جان دے گا؟ سو قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانون قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اٹھاویں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کو سخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطر ناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مار لیں یا دو تین رتی اسٹر کنیا کھا کر اس جہان سے رخصت ہو جائیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجاسے قوم کو نجات دے دی ہے۔یہ مردوں کا کام نہیں ہے۔زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں 260