سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 252 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 252

تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (حم السجدة: 27) وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (آل عمران : 73: یعنی کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کو مت سنو۔اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے تو تم شور ڈال دیا کرو۔تا شاید اسی طرح غالب آجاؤ۔اور بعضوں نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ کہا کہ یوں کرو کہ اول صبح کے وقت جا کر قرآن پر ایمان لے آؤ۔پھر شام کو اپنا ہی دین اختیار کر لو۔تا شاید اس طور سے لوگ شک میں پڑ جائیں اور دین اسلام کو چھوڑ دیں۔أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا۔أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ وَمَنْ يَلْعَن اللهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا (النسا: 52، 53) کیا تو نے دیکھا نہیں کہ یہ عیسائی اور یہودی جنہوں نے انجیل اور تورات کو کچھ ادھورا سا پڑھ لیا ہے ایمان ان کا دیوتوں اور بتوں پر ہے اور مشرکوں کو کہتے ہیں کہ ان کا مذہب جو بت پرستی ہے وہ بہت اچھا ہے اور توحید کا مذہب جو مسلمان رکھتے ہیں یہ کچھ نہیں یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس بر خد العنت کرے اس کے لئے کوئی مددگار نہیں۔اب خلاصہ اس تقریر کا یہ ہے کہ اگر آنحضرت اُمّی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمی اور ناخواندہ کا کام نہیں اور نہ دس ہیں آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے آعَانَہ عَلَيْهِ قَوْمُ آخَرُونَ (الفرقان: 5) کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر پرخا ہے ،، ( براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 561589) 252