سیرة النبی ﷺ — Page 251
ہے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مذمت کرواتے۔اور اپنی کتابوں کا آپ ہی رڈ لکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ ست اور نادرست باتیں اس لئے دنیا پرستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پر زور روشنی سے اپنی کر نیں چاروں طرف چھوڑ رہاتھا کہ وہ اس سے چمگادڑ کی طرح چھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہر گز ثبات و قیام نہ تھا بلکہ تعصب اور شدت عناد نے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنار کھا تھا۔پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے سکھاتا ہو گا جیسا اُن کا یہ مقولہ قرآن شریف میں درج ہے انّما يُعلمُه بَشَرُ (سورۃ النحل: 104) اور پھر جب دیکھا کہ قرآن شریف میں صرف قصے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے حقائق ہیں تو پھر یہ دوسری رائے ظاہر کی وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ آخَرُونَ (سورة الفرقان الجزو نمبر (۱۸)۔یعنی ایک بڑی جماعت نے متفق ہو کر قرآن شریف کو تالیف کیا ہے ایک آدمی کا کام نہیں۔پھر جب قرآن شریف میں ان کو یہ جواب دیا گیا کہ اگر قرآن کو کسی جماعت علماء فضلاء اور شعر انے اکٹھے ہو کر بنایا ہے تو تم بھی کسی ایسی جماعت سے مدد لے کر قرآن کی نظیر بنا کر دکھلاؤ تا تمہارا سچا ہونا ثابت ہو تو پھر لاجواب ہو کر اس رائے کو بھی جانے دیا اور ایک تیسری رائے ظاہر کی اور وہ یہ کہ قرآن کو جنات کی مدد سے بنایا ہے یہ آدمی کا کام نہیں پھر خدا نے اس کا جواب بھی ایسا دیا کہ جس کے سامنے وہ چون و چرا کرنے سے عاجز ہو گئے جیسا فرمایا ہے وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَحِيمٍ، فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ (التكوير: 25-27) قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْل هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (بنی اسرائیل: 89)۔یعنی قرآن ہر ایک قسم کے امور غیبیہ پر مشتمل ہے اور اس قدر بتلانا جنات کا کام نہیں۔ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن متفق ہو جائیں اور ساتھ ہی بنی آدم بھی اتفاق کر لیں اور سب مل کر یہ چاہیں کہ مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بنا دیں تو ان کے لئے ہر گز ممکن نہیں ہو گا اگر چہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔پھر جب ان بد بختوں پر اپنے تمام خیالات کا جھوٹ ہونا کھل گیا اور کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو آخر کار کمال بے حیائی سے کمینہ لوگوں کی طرح اس بات پر آگئے کہ ہر طرح پر اس تعلیم کو شائع ہونے سے روکنا چاہئے جیسا کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں فرمایا ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا 251