سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 250 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 250

پہلی کتابوں کی مکمل اور مستم تھیں تو آنحضرت کی حالت اُمیت کو سوچنے سے اور پھر اس تاریکی کے زمانہ میں ان کمالات علمیہ کو دیکھنے سے نیز انوار ظاہری و باطنی کے مشاہدہ سے نبوت آنحضرت کی ان کو اظہر من الشمس معلوم ہوتی تھی اور ظاہر ہے کہ اگر ان مسیحی فاضلوں کو آنحضرت کے اُمّی اور موید من اللہ ہونے پر یقین کامل نہ ہو تا تو ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے دین سے جس کی حمایت میں ایک بڑی سلطنت قیصر روم کی قائم تھی اور جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ بعض حصوں یورپ میں بھی پھیل چکا تھا اور بوجہ اپنی مشرکانہ تعلیم کے دنیا پرستوں کو عزیز اور پیارا معلوم ہوتا تھا صرف شک اور شبہ کی حالت میں الگ ہو کر ایسے مذہب کو قبول کر لیتے جو باعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو بُرا معلوم ہو تا تھا اور اُس کے قبول کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اور بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر اوہ یہی بات تھی جو انہوں نے آنحضرت کو محض اتنی اور سرا پا مؤید من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے بالا تر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور بد باطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی بہ یقین کامل آنحضرت کو اُقی جانتے تھے اور اسی لئے جب وہ بائیبل کے بعض قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور امتحان نبوت پوچھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب پاتے تھے تو یہ بات ان کو زبان پر لانے کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت کچھ پڑھے لکھے ہیں۔آپ ہی کتابوں کو دیکھ کر جواب بتلا دیتے ہیں بلکہ جیسے کوئی لاجواب رہ کر اور گھسیانا بن کر کچے عذر پیش کرتا ہے ایسا ہی نہایت ندامت سے یہ کہتے تھے کہ شاید در پردہ کسی عیسائی یا یہودی عالم بائیل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا اقی ہونا ان کے دلوں میں یہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت اُمّی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی در پردہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بدیہی البطلان تھا۔اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہل کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محریف اور مبدل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خود ان کو بشر طیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔اور اُن کے اصولِ مصنوعہ کو دلائل قویہ سے توڑتا 250