سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 236 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 236

العصر والمغرب ( یہ وعظ ) فرمایا تھا اور دروازہ سے باہر دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کر قلمبند کیا گیا۔چونکہ اکثر بچگان بھی عورتوں کے ہمراہ تھے جو اکثر شور کر کے سلسلہ تسامع کو توڑ دیتے تھے۔اس لئے جہاں تک بشریت کی استعداد نے موقعہ دیا اس کو بلفظہ نوٹ کیا گیا۔] ابو لہب کے لڑکوں سے منگنی کی وجہ : فرمایا: "محضرت علی عوام نے اپنی لڑکیوں کے رشتے ابو لہب سے کر دئے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کا نزول نہ ہوا تھا۔چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ ان پر توحید غالب تھی اس لئے دخل نہ دیتے تھے۔اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سر انجام دیتے۔اس لئے ابو لہب کو لڑکی دے دی تھی “نوٹ: فٹ نوٹ میں مرتب ملفوظات کی طرف سے نوٹ ہے کہ [ ابو لہب کے گھر مراد ہے] ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 355) مندرجہ بالا ارشاد میں جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ابو لہب سے مراد اس کے گھر یعنی اسکے بیٹے ہیں۔اسکی تفصیل یہ ہے کہ حضرت رقیہ کی نسبت (منگنی) نبوت سے قبل عتبہ بن ابو لہب سے ہوئی تھی۔سورۃ اللہب کے نزول کے بعد یہ رشتہ ختم ہو گیا۔بعد میں حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان غنی سے ہوئی۔دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم کی نسبت بھی قبل نزول وحی عتیبہ ابن ابی لہب سے قائم ہوئی تھی اور سورۃ اللہب کے بعد یہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔حضرت رقیہ کی وفات کے بعد انکی شادی حضرت عثمان سے ہو گئی۔اس لئے حضرت عثمان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے کہ انکے عقد میں آنحضور کی دو صاحبزادیاں آئیں۔(12) اولاد کو نصائح : آنحضرت صلی الم نے خود فاطمہ رضی اللہ عنھا سے کہا کہ یہ خیال مت کرنا کہ میرا باپ پیغمبر ہے۔اللہ تعالی کے فضل کے بغیر کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔کسی نے پوچھا کہ کیا آپ بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی“ (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 445) 236