سیرة النبی ﷺ — Page 228
تعدد ازدواج پر اعتراض کا جواب: آنحضور صلی ال نیم کی ایک سے زائد شادیوں پر غیر مسلموں نے بہت اعتراضات کئے ہیں بلکہ بعض مسلمان بھی مغرب کی جدید تہذیب سے متاثر ہو کر اس اعتراض کو جائز سمجھ لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ پر اپنی تحریرات میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ہر پہلو سے اس کا جواب ارشاد فرما دیا ہے۔یہاں صرف ایک ارشاد درج کیا جاتا ہے۔فرمایا: ہمینہ طبع آدمی کے ہاتھ میں صرف بدظنی کے طور پر چند اعتراض ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں شخص کیونکر خدا کا نبی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتا ہے مگر وہ نادان نہیں جانتا کہ اس میں کیا حرج ہے بلکہ کثرت ازدواج کثرت اولاد کا موجب ہے جو ایک برکت ہے۔اگر ایک عورت کا سوخاوند ہو تو اُس کا سولڑکا پیدا نہیں ہو سکتا لیکن اگر سو ۱۰۰ عورت کا ایک خاوند ہو تو سو لڑکا پیدا ہونا کچھ بعید نہیں ہے پس جس طریق سے انسان کی نسل پھیلتی ہے اور خدا کے بندوں کی تعداد بڑھتی ہے اس طریق کو کیوں بُرا کہا جاوے؟ اگر کہو کہ یہ اعتدال کے برخلاف ہے تو یہ خیال باطل ہے کیونکہ جب کہ خدا نے ایک کو مرد بنایا اور زیادہ بچہ پیدا کرانے کا اُس میں مادہ رکھا اور عورت کی نسبت اس کو بہت زبر دست قوتیں دیں تو اس صورت میں اعتدال کو تو خدا نے اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔جن کو خدا نے برابر نہیں کیا وہ کیونکر برابر ہو جائیں اُن کو برابر سمجھنا صریح حماقت ہے۔ماسوا اس کے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ تعدد ازدواج میں کسی عورت پر ظلم نہیں۔مثلاً اگر کسی شخص کی پہلی بیوی موجود ہے تو اب دوسری عورت جو اُس سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ کیوں ایسے شخص سے شادی کرتی ہے جو پہلے بھی ایک بیوی رکھتا ہے ظاہر ہے کہ وہ تو تبھی شادی کرے گی کہ جب تعدد ازدواج پر راضی ہو جائے گی۔پھر جب میاں بیوی راضی ہو گئے تو پھر دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں پہنچتا جب حق دار نے اپنا حق چھوڑ دیا تو پھر دوسرے کا اعتراض محض جھک مارنا ہے اور اگر پہلی بیوی ہے تو وہ خوب جانتی ہے کہ اسلام میں دوسری بیوی کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نکاح کے وقت میں یہ شرط نہیں کرا لیتی کہ اُس کا خاوند دوسری بیوی نہ کرے اس صورت میں وہ بھی اپنی خاموشی سے اپنا حق چھوڑتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ کثرت ازواج خدا کے تعلق کی کچھ حارج نہیں اگر کسی کی دس ہزار بیوی بھی ہو تو اگر اُس کا خدا سے پاک اور مستحکم تعلق ہے تو دس ہزار بیوی سے اُن کا کچھ بھی حرج نہیں بلکہ اِس سے اُس کا کمال ثابت ہوتا ہے کہ ان تمام تعلقات 228