سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 211 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 211

ہو رہے گی یعنی خوابوں اور مکاشفات کی تعبیر ضرور نہیں کہ ظاہر پر ہی واقعہ ہو کبھی تو ظاہر پر ہی واقعہ ہو جاتی ہے اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آتی ہے“ حضرت عائشہ سے کم عمری میں شادی پر اعتراض کا جواب: (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 203،204) بعض غیر مسلم مورخین نے محض بخاطر اعتراض یہ الزام لگایا ہے کہ آنحضور صلی الم نے حضرت عائشہ سے نہات کم عمری میں شادی کی جو نعوذ باللہ زنا کے حکم میں ہے۔یہ اعتراض پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے بھی کیا تھا۔اس کا جواب حضور نے مختلف کتب میں نہایت تفصیل سے دیا ہے۔”آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔صرف ایک راوی سے منقول ہے۔عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں۔کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے۔لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا مگر احمق کا کوئی علاج نہیں ہم آپ کو اپنے رسالہ میں ثابت کر کے دکھا دیں گے کہ حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں۔بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صد ہالوگوں کی یہ بات چشم دید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے مگر آپ پر تو کچھ بھی افسوس نہیں اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ آپ صرف متعصب ہی نہیں بلکہ اول درجہ کے احمق بھی ہیں۔آپ کو اب تک اتنی بھی خبر نہیں کہ گورنمنٹ کے قانون عوام کی درخواست کے موافق ان کی رسم اور سوسائٹی کی عام وضع کی بنا پر تیار ہوتے ہیں۔ان میں فلاسفروں کی طرز پر تحقیقات نہیں ہوتی اور جو بار بار آپ گورنمنٹ انگریزی کا ذکر کرتے ہیں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے شکر گزار ہیں اور اس کے خیرہ خواہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں رہیں گے مگر تاہم ہم اس کو خطا سے معصوم 211