سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 210 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 210

سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شائد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔آپ نے یہ اس کی درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کے توار د اور تظاہر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی برائی نہیں۔اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرد اس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کاروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں“ ( نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 377 تا379) حضرت عائشہ کو خواب میں دیکھنا: آپ نے فرمایا: اس حدیث کو دیکھو جو صحیح بخاری کے صفحہ ۵۵۱ میں درج ہے اور وہ یہ ہے حدثنا معلى قال اللہ علیہ وسلم قال حدثنا وهيب عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة ان النبي صلى لها اریتک فی المنام مرتین اری انک فی سرقۃ من حرير و يقول هذه امرأتك فاكشف عنها فاذا هي انت فاقول ان یک هذا من عند الله یمضہ یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ تو خواب میں مجھے دو دفعہ دکھائی گئی اور میں نے تجھے ایک ریشم کے ٹکڑے پر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ تیری عورت ہے اور میں نے اس کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تو ہی ہے اور میں نے کہا کہ اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی تعبیر ہے جو میں نے سمجھی ہے تو 210