سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 199 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 199

معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مرگئے کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ ہزارہا نیک اجر حضرت ابو بکر کو بخشے کہ جلد تر اُنہوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مرگئے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا در حقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے۔یا الہی ان کی جان پر کروڑہا رحمتیں نازل کر آمین۔اگر اس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جابیٹھے ہیں تب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو مضر نہیں بلکہ اُن کی مؤید ٹھہرتی ہے۔لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ جس پر حضرت ابو بکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مر کر گذر گئے یا زندہ ہی گذر گئے یہ دجل اور تحریف اور خدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے۔اور ایسے افتر اعمد ا کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے برخلاف اُلٹے معنے کرتے ہیں وہ بلا شبہ ابدی لعنت کے نیچے ہیں۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس وقت تک اس آیت کا علم نہیں تھا اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہو و نسیان میں گر فتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور اُن کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں۔لیکن حضرت ابو بکر نے تمام آیت پڑھ کر اور أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ سناکر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حنف الف سے مرنا یعنی طبعی موت۔(۲) مارے جانا۔تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گذشتہ نبی سب مر گئے ہیں اور فقرہ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کر لیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔منہ“ ( تحفه مغز نوید، روحانی خزائن جلد 15 حاشیہ صفحہ 582،581) 199