سیرة النبی ﷺ — Page 191
کرتے دیکھا ہو اور حج کے واقعات کی تفصیلات کا ذکر نہ کیا ہو۔مکی دور کے حج کی تفصیلات کی عدم دستیابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ حضرت علی کم سو سال مکہ میں رہے آپ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے ؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا“ حجة الوداع: ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 280) فتح مکہ کے بعد آنحضور صلی علیم کی ہدایت سے؟ میں اسلامی طریق پر پہلا حج ادا کیا گیا۔اس حج میں خود آنحضور صلی علیکم نے شرکت نہیں فرمائی لیکن اپنی نمائندگی میں حضرت ابو بکر صدیق کو حج کے تمام امور کی تفصیلات بتا کر امیر الحجاج مقرر فرما کر بھیجا۔اس حج کو قرآن کریم میں حج اکبر کا نام دیا گیا ہے۔اسے حج اکبر اس لئے کہا گیا کہ یہ وہ پہلا حج تھا جو کعبہ کی بتوں سے تطہیر کے بعد خالص اسلامی نظام اور طریق پر ہوا۔اس سے اگلے سال آنحضور صلی الیکم بنفس نفیس حج کے لئے تشریف لے گئے۔اس حج کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے۔آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اس حج میں شامل ہوئی۔اس حج میں آنحضور صلی اللہ ہم نے تکمیل دین اور اتمام نعمت کا اعلان فرمایا۔اور عرفہ کا مشہور خطبہ ارشاد فرمایا۔اس کے متعلق حضور نے تحریر فرمایا: ب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورت میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ اس کے بعد حج کیا اور اس کا نام حجتہ الوداع رکھا اور ہزار ہالوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ سنو ! اے خدا کے بندو! مجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہنچا دوں پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں میں نے تمہیں پہنچا دیں۔تب ساری قوم نے بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہنچائے گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے خدا ان باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مقرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھ نہیں ہونگا ( نور القرآن نمبر 1 ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 365 تا 367) 191