سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 190 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 190

(18) قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جاتو فی الفور اُٹھ جائے گا۔آنحضور صل الم نے فرمایا کہ والذي نفسي بيدهِ لَو تَباهَلُوا لَمَسَحُوا قِرَدَةً و خَنازيرًا ولاضطرمَ الوادى ناراً عليهم بنجران و اهلي حتى الطير على الشَّجَرَةِ (19) یعنی اگر اہل نجران مباہلہ کرتے تو قسم اس ذت کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔تو وہ بندروں اور سوروں کی طرح مارے جاتے اور وادی ان پر آگ برساتی کہ انکے اہل خانہ بھسم ہو جاتے اور انکے درختوں کے پرندے بھی مارے جاتے۔پس اہل نجران نے مباہلہ سے اعراض کیا اور معاہدہ اطاعت کے ساتھ واپس چلے گئے۔حج فتح مکہ کے بعد آنحضور صلی یک کم کی ہدایت ہے؟ میں اسلامی طریق پر پہلا حج ادا کیا گیا۔تیرہ سالہ مکی دور میں امن کے ساتھ اسلامی طریق پر حج کی ادائیگی ممکن نہ تھی۔اس لئے آنحضور صلی ایم نے اس دور میں حج ادا نہیں کیا۔مکی دور میں حج : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔حضرت علی ایک سو سال مکہ میں رہے آپ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے ؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا“ (ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 280) صحیحین میں بھی مکی دور کے کسی حج کے واقعات و حالات مذکور نہیں ہیں جن سے مکی دور میں آنحضور صلی اللہ ہم کی ادائیگی حج ثابت ہو۔کتب تاریخ وسیرت کی چند روایات میں مکی دور کے حج کی تعداد میں اختلاف ہے۔مثلاً سیرت الحلبیہ میں ایک حج، دو یا تین حج اور اسی طرح ہر سال حج ادا کرنے کے متعلق بھی روایات مذکور ہیں (20) طبری نے بھی ایک حج، دو یا تین حج ادا کرنے کے متعلق بھی روایات درج کی ہیں۔( تاریخ الامم و الملوک از محمد ابن جریر الطبری، عد د حج فی مکہ ) الطبقات الکبرای لابن سعد نے مکی دور میں عمروں کا ذکر کیا ہے حج کا ذکر نہیں کیا۔کعبہ کے ساتھ آنحضور صلی اللہ ہم کو محبت تھی۔آپ صلی یم کی مکی دور کی زندگی کعبہ کے گرد و نواح میں گزری۔روایات میں عمروں اور طواف کا بھی ذکر ملتا ہے۔لیکن حج کے واقعات کا کوئی ذکر نہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ صحابہ نے آنحضور صلی علی نظم کو حج 190