سیرة النبی ﷺ — Page 189
دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جاتو فی الفور اُٹھ جائے گا۔سو خدا جانے کہ اس وقت نور نبوت و ولایت کیسا جلال میں تھا کہ اس کا فر بد باطن سیہ دل کو بھی نظر آگیا“ (مکتوبات احمد جدید ایڈیشن۔جلد 1 صفحہ 563،562 مکتوب نمبر 27 بنام سید میر عباس علی شاہ صاحب) معاہدہ حدیبیہ کے بعد سات ہجری میں آنحضور صلی اللی رام نے نجران کے عیسائیوں کو تبلیغ کے لئے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو بھیجا۔ان کے ساتھ مباحثہ ہوا لیکن عیسائی مطمئن نہ ہو سکے۔اسکے کچھ عرصہ بعد آنحضور صلی ا ہم نے نجرانیوں کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ اسلام قبول کر لو۔اور اگر اسلام قبول نہ ہو تو سیاسی اطاعت قبول کر لو۔اہل نجران نے باہم مشورہ کے بعد ایک وفد مدینہ بھیجا۔یہ وفد 9 ہجری کو مدینہ آیا اس میں انکے اہم مذہبی رہنماوں کے ساتھ لارڈ بشپ جس کا نام ابو حارثہ تھا بھی آیا تھا۔انکی کل تعداد ساٹھ تھی۔آنحضور صلی الم نے ان لوگوں کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔جب ان کی عبادت کا وقت ہوا تو آنحضور صلی اللہ ہم نے انکو مسجد نبوی میں ہی عبادت کی اجازت فرمائی اور انہوں نے مسجد میں ہی اپنے طریق کے مطابق عبادت کی۔(16) اس قیام کے دوران انکی آنحضور صلی انیم سے دینی بحث بھی ہوئی لیکن باوجود مدلل جواب سننے کے انکی تسلی نہ ہوئی۔اسی قیام کے دوران سورۃ آل عمران کی آیات مباہلہ نازل ہوئیں : فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران : 62) ترجمہ : اب جو شخص تیرے پاس علم (البی) کے آچکنے کے بعد تجھ سے اس کے متعلق بحث کرے تو تُو (اسے) کہہ دے (کہ) آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو ، اور ہم اپنے نفوس کو اور تم اپنے نفوس کو، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔(ترجہ از تفسیر صغیر) ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی علی کریم نے ان عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔پہلے تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا۔لیکن پھر جب انکے بعض اشخاص پر آنحضور صلی اللہ یکم اور صحابہ کے مقام روحانیت کی چمکار پڑی تو وہ خائف ہو کر مباہلہ سے رُک گئے۔جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ بالا ارشاد میں فرمایا ہے۔تاریخ الخمیس میں ان کے یہ الفاظ درج ہیں کہ فوالله لان كان نبياً فَلاعناه يعنى باهلناه لا تفلح ولا عقبنا من بعدنا ابدا (17) اسی طرح درج ہے کہ ایک شخص نے یہ بھی کہا فقال أسقفهم يا معشر النصري إلى لارى وجُوهاً سَالُوا تعلى أَن يَزِيلَ جَبَلًا عن مكانهِ لَأَزَالَهُ فَلَا تَباهَلُوا یعنی ان کے سردار نے کہا اے نصاری مجھ کو پروردگار کی الله 189