سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 172 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 172

الروم - سلام على من اتبع الهدى۔امّا بعد فانّى ادعوك بدعایۃ الاسلام اسلِم تَسْلِم یؤتک اللہ اجرک مرتین۔فان تولیت فانّ علیک اثم اليريسيين۔ويا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئًا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون۔یعنی یہ خط محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو خدا کا بندہ اور اُس کا رسول ہے روم کے سردار ہر قل کی طرف ہے۔سلام اُس پر جو ہدایت کی راہوں کی پیروی کرے اور اس کے بعد تجھے معلوم ہو کہ میں دعوتِ اسلام کی طرف تجھے بلاتا ہوں یعنی وہ مذہب جس کا نام اسلام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ انسان خدا کے آگے اپنی گردن رکھ دے اور اُس کی عظمت اور جلال کے پھیلانے کے لئے اور اُس کے بندوں کی ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جائے اس کی طرف میں تجھے بلاتا ہوں۔اسلام میں داخل ہو جا کہ اگر تو نے یہ دین قبول کر لیا تو پھر سلامت رہے گا اور بے وقت کی موت اور تباہی تیرے پر نہیں آئے گی اور اگر ایسانہ کیا تو پھر موت اور ہاویہ در پیش ہے اور اگر تو نے اسلام کو قبول کر لیا تو خدا تجھے دو اجر دے گا۔یعنی ایک یہ کہ تو نے مسیح علیہ السلام کو قبول کیا اور دوسرا یہ اجر ملے گا کہ تو نبی آخر الزمان پر ایمان لایا لیکن اگر تو نے منہ پھیرا اور اسلام کو قبول نہ کیا تو یاد رکھ کہ تیرے ارکان اور مصاحبین اور تیری رعیت کا گناہ بھی تیری ہی گردن پر ہو گا۔اے اہل کتاب! ایک ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو تم میں اور ہم میں برابر ہے یعنی دونوں تعلیمیں انجیل اور قرآن کی اس پر گواہی دیتی ہیں اور دونوں فرقوں کے نزدیک وہ مسلم ہے کسی کو اس میں اختلاف نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم محض اُسی خدا کی پرستش کریں جو واحد لاشریک ہے اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ شریک نہ کریں نہ کسی انسان کو نہ کسی فرشتہ کو نہ چاند کو نہ سورج کو نہ ہوا کو نہ آگ کو نہ کسی اور چیز کو اور ہم میں سے بعض خدا کو چھوڑ کر اپنے جیسے دوسروں کو خدا اور پروردگار نہ بنالیں اور خدا نے ہمیں کہا ہے کہ اگر اس حکم کو سن کر یہ لوگ باز نہ آویں اور اپنے مصنوعی خداؤں سے دست بردار نہ ہوں تو پھر ان کو کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم خدا کے اس حکم پر قائم ہیں کہ پرستش اور اطاعت کے لئے اُسی کے آستانہ پر گردن رکھنی چاہیئے اور وہ اسلام جس کو تم نے قبول نہ کیا ہم اُس کو قبول کرتے ہیں۔یہ خطہ تھا جو ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کی طرف لکھا تھا اور اُس کو قطعی طور پر ہلاکت اور تباہی کا وعدہ نہیں دیا بلکہ اُس کی سلامتی اور ناسلامتی کے لئے شرطی وعدہ تھا۔اور صحیح بخاری کے اسی صفحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر قیصر روم نے حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اس 172