سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 165 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 165

تو اس سے کیا نقصان بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا تالوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں“ بیعت رضوان ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 115،116) فرمايا: "إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: 11) یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے فتح مبین کا پیش خیمہ : (سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2 حاشیہ صفحہ 275-276) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور آپ کو یاد ہو گا کہ حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایا ہے إِنَافَتَحْنَا لَكَ فَتحاً مبيناً۔وہ فتح اکثر صحابہ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کا موجب ہوئی مگر دراصل وہ فتح مبین تھی گو اس کے مقدمات نظری اور عمیق تھے“۔( مجموعہ اشتہارات، جلد 2 صفحہ 83-84، اشتہار 5 اکتوبر 1894) لکھا ہے کہ آنحضرت ملی ایم نے جب صلح حدیبیہ کی ہے تو صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے کا موقعہ ملا۔اور انہوں نے آنحضرت صلی علم کی باتیں سنیں تو ان میں سے صدہا مسلمان ہو گئے جب تک انہوں نے آپ میلم کی با تیں نہ سنی تھیں ان میں 165