سیرة النبی ﷺ — Page 163
کی وہ فطری خواہش اور آرزونہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو کوئی ہم کو بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ اور ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا تو آپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتایا نہیں گیا تھا؟ بات یہی ہے کہ یہ گو وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرنا ہے اور چونکہ ان نشانات کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اظہار ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نشان پورا ہو تا تو سجدہ کیا کرتے تھے۔“ صحابہ کی آزمائش: ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 48) فرمایا : ” دیکھو آنحضرت علی ایم کا صلح حدیبیہ کا معاملہ جس میں بعض بڑے بڑے اکابر صحابہ کو بھی ٹھو کر لگ گئی تھی مگر پھر خدا نے انکی دستگیری فرما کر انکو بچالیا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس میں شریک تھے “ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 5 صفحہ 522) حضور نے یہاں صحابہ کے جن ابتلاؤں کا ذکر فرمایا ہے اسکے متعلق ایک روایت میں ہے کہ جاء عمر فقال السنا على الحق وهم على الباطل؟ اليس قتلانا في الجنة وهم في النار؟ قال بلى قال ففيما نعطى الدنيّة في ديننا؟ ونرجع ولم يحكم الله فينا۔فقال يا ابن الخطاب اني رسول الله ولن يضيعني الله ابدا فرجع متغیظ (10) کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی علیم سے کہا کہ کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مقتولین جنتی اور ان کے مقتولین جہنمی نہیں ؟ آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔حضرت عمرؓ نے کہا تو پھر کس وجہ سے ہم اپنے دین کے معاملہ میں کمزوری دکھائیں اور ہم واپس جارہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کیا۔رسول اللہ صلی ا ولم نے فرمایا۔اے ابن خطاب میں اللہ تعالیٰ کار سول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔پس حضرت عمررؓ ناراض واپس ہوئے۔یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ فرمایا : ماشككت منذ اسلمت الا يومئذ کہ میں جب سے مسلمان ہوا مجھے صرف اسی دن شک پیدا ہوا (1) (11) 163