سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 137 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 137

مرد کو سونا پہننے کی ممانعت کی وجہ سے وہ کنگن پہنے میں بھی کچھ گریزاں تھے لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ سراقہ تمہیں تو یہ کنگن پہنے ہوں گے کیونکہ یہ نبی صلی للی کم کی پیشگوئی کی تکمیل ہے۔چنانچہ وہ کنگن سراقہ کو پہنائے گئے۔سراقہ کی وفات حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں ہوئی۔(9) تکمیل ہجرت و نزول قبا: آنحضور صلی الم کا سفر ہجرت تقریباً ایک ہفتہ میں مکمل ہوا۔مدینہ میں داخل ہونے سے قبل آپ صلی ا ہم نے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر ایک نواحی بستی قبا میں دس دن قیام فرمایا۔آپ نے آنحضور اور حضرت ابو بکر صدیق کی سیرت کا ایک واقعہ درج فرمایا ہے جو قبا میں اس قیام کے دوران رو نما ہو ا تھا۔فرمایا: ”جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی داڑھی سفید تھی لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کوئی خادمانہ کام کیا اور اس طرح پر سمجھا دیا کہ آپ پیغمبر کہیں تب معلوم ہوا“ (ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 388) پیغمبر خداصلی و کم کا کوئی خاص ایسا لباس نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیز ہو سکتے بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابو بکر کو پیغمبر جان کر ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم و تکریم کرنے لگا آخر ابو بکر اٹھ کر پیغمبر خداصل ان کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت ملا تم یہ ہیں میں تو خادم ہوں“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 619) آپ نے مذکورہ بالا ارشاد میں جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ قبا میں قیام کے دوران ہوا۔سیرت کی متعدد کتب میں یہ واقعہ مذکور ہے۔جیسے ابن ہشام کی ایک روایت میں درج ہے کہ قبا میں پہنچنے کے بعد آنحضور لا ل ل ل ورم او حضرت ابو بکر صدیق کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔چونکہ ہم میں سے اکثر نے رسول اللہ صلی الی یوم کو اور حضرت ابو بکر صدیق کو پہلے نہیں دیکھا ہوا تھا۔اس لئے پہچان نہ سکے کہ ان میں سے رسول اللہ کون ہیں۔آپ ملی ایم کی زیارت کے لئے ایک بڑا ہجوم تھا۔پھر جب آپ صلی علیہ ظلم پر سے سایہ ہٹا تو حضرت ابو بکر صدیق نے آنحضور صلیالم پر سایہ کرنے کے لئے چادر اوڑھا دی جس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی علیکم کون 137