سیرة النبی ﷺ — Page 130
پا کر وہ حملہ کر سکتے تھے گویا اسی وقت خطرہ کا آغاز ہو گیا تھا۔اس وقت آنحضور صلی الہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور حضرت ابو بکر صدیق کے گھر تشریف لے گئے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے بدھ کاروز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا“ (روحانی خزائن جلد 2 ، سرمه چشم آریہ ، حاشیہ صفحہ 65،64) قتل کے منصوبہ کے روز آپ کا دوپہر کے وقت حضرت ابو بکر صدیق کے گھر جانا اور پھر مکہ سے غارِ ثور کے لئے منہ اندھیرے اپنے گھر سے نکلنا اور دشمن کی نظروں کے سامنے سے گزرنا اور دشمن کی آنکھوں کا اندھا ہو جانا اور انکے سروں پر خاک ڈالنا یعنی انکے منصوبوں کو خاک میں ملا دینا وغیرہ کو معجزانہ تصرف کے طور پر بیان کیا گیا ہے کفار محض خدائی تصرف سے آپ صلی اللہ یلم کو دیکھنے اور پہچاننے سے قاصر ہو گئے۔روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محاصرین جب مستعدی سے کھڑے تھے انکو ایک اور شخص نے پہچان کر انکے کھڑے ہونے کی غرض پوچھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اتنی تاریکی نہ تھی کہ محاصرہ کئے ہوئے لوگ پہچانے نہ جاسکتے ہوں۔اگر وہ پہچانے جاسکتے تھے تو آپ کو بھی دیکھا اور پہچانا جا سکتا تھا۔سیرت النبی صلی اللی نام کے اسی پہلو یعنی خوارق عادت تائید خداوندی کو اس ارشاد میں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔یار غار سفر ہجرت کے لئے رفاقت کا اعزاز حضرت ابو بکر صدیق کے حصہ میں آیا۔نیز ہجرت کی تیاری اور سفر ہجرت میں حضرت ابو بکر صدیق کی خدمات بھی غیر معمولی ہیں۔آپ نے انکا ذکر بھی اپنی تحریرات میں فرمایا ہے۔اور اس رفاقت کو آنحضور صلی ایم کے کشف اور الہام پر مبنی قرار دیا ہے۔اس وقت آپ کے پاس ستر ۷۰ اسی ۸۰ صحابہ موجود تھے، جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، مگر ان سب میں سے آپ نے اپنی رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی انتخاب کیا۔اس میں کیا سر ہے؟ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کا فہم اللہ تعالی ہی کی طرف سے آتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کشف اور 130