سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 128 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 128

خدا تعالیٰ نے کیسا بچا لیا۔دشمنوں کے بیچ میں سے گزر گئے اور انکے سر پر خاک ڈال گئے مگر انکو نظر نہ آسکے “ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 10 حاشیہ) آپ کے اس ارشاد سے سیرت النبی صلی الم کا ایک بہت اہم پہلو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ابتلاء کے وقت آپ صلی الیم نے کوئی آہ و بکا نہیں کی یا گھبراہٹ یا سراسیمگی کا اظہار بھی نہیں فرمایا بلکہ کوہ و قار بن کر نہایت دلیری کے ساتھ راضی برضائے الہی اور توکل علی اللہ کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔حالانکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ سامنے موت دکھائی دیتی تھی۔کتب سیرت و تاریخ کے مطابق قریش کے مقرر کردہ اشخاص جن میں خود ابو جہل بھی تھا تلواریں ہاتھ میں تیار رکھے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے گھر کے دروازہ پر کھڑے تھے اور آپ صلی کم پر ٹوٹ پڑنے کو بیتاب تھے۔اور بظاہر انکے اس منصوبہ کی تکمیل میں کوئی روک بھی نہ تھی۔(5) لیکن خدا تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت تھی جو ساتھ تھی۔اسی پر آپ صلی الیکم کو بھروسہ تھا۔محاصرہ کے دوران جب آپ صلی علیکم گھر سے ہجرت کے لئے نکلے ہیں اس وقت بھی آپ صلی علی یم نے اس تو کل اور وقار کا عظیم نمونہ دکھایا۔ہجرت کے لئے خروج: آنحضور صلی للہ کا محاصرہ کے دوران جب گھر سے ہجرت کے لئے نکلے ہیں اس وقت بھی آپ صلی ایم نے اس تو کل اور و قار کا عظیم نمونہ دکھایا۔ان واقعات سیرت کو جنہیں بعض مسلم اور غیر مسلم مورخین نے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔آپ نے نہایت پر حکمت الفاظ میں انکو بیان فرمایا ہے جس سے اُن مورخین کی تصحیح بھی ہو جاتی ہے اور سیرت النبی صلی الم کے درخشاں پہلوؤں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ذیل میں چند ارشادات درج ہیں۔فرمایا: بدھ کا روز اور دو پہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا“ (روحانی خزائن جلد 2، سرمه چشم آریہ ، حاشیہ صفحہ 65،64) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورہ 128