سیرة النبی ﷺ — Page 114
”میں کہتا ہوں کہ آپ اپنے اسی قول سے ملزم ٹھہر سکتے ہیں کیونکہ جس حالت میں چاند کے دو ٹکڑہ کرنے کا دعویٰ زور شور سے ہو چکا تھا یہاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور اعراض کر کے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔اور پھر یہ دعویٰ نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس وغیرہ دور دراز ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قو میں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد و بغض و حسد شق القمر کی گواہی دینے سے زبان بند رکھتیں کیونکہ منکر اور مخالف کا دل اپنے کفر اور مخالفت کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ وہ مخالف مذہب کی تائید میں کتابیں لکھے یا اس کے معجزات کی گواہی دیوے۔ابھی تازہ واقعہ ہے کہ لالہ شرمپت و ملاوامل آریہ ساکنان قادیان و چند دیگر آپ کے آریہ بھائیوں نے قریب ۷۰ کے الہامی پیشگوئیاں اس عاجز کی بچشم خود پوری ہوتی دیکھیں جن میں پنڈت دیانند کی وفات کی خبر بھی تھی۔چنانچہ اب تک چند تحریری اقرار بعضوں کے ہمارے پاس موجود پڑے ہیں لیکن آخر قوم کے طعن ملامت سے اور نیز ان کی اس دھمکی سے کہ ان باتوں کی شہادت سے اسلام کو تائید پہنچے گی اور وہ امر ثابت ہو گا کہ جس میں پھر وید کی بھی خیر نہیں ڈر کر مونہہ بند کر لیا اور ناراستی سے پیار کر کے راستی کی شہادت سے کنارہ کش ہو گئے سو مخالف ہونے کی حالت میں اگر کوئی ادائے شہادت سے خاموش رہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر مخالف کی طرف سے ایک دعویٰ کا جھوٹا ہونا کھل جائے تو پھر جھوٹ کی اشاعت کے لئے قلم نہ اٹھائیں اور دروغگو کو اس کے گھر تک نہ پہنچائیں سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعویٰ مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آگیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعویٰ میں سچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہ بند رکھایاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل بر خلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجز، ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ 114