سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 103 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 103

مکہ میں دس سال تبلیغ کے نتیجہ میں بظاہر کوئی راہ اسلام کے پھلنے کی نظر نہ آتی تھی۔اور قریش اسلام کے بارے میں کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے۔اور آنحضور صلی علی یم نے طائف کے سفر کا ارادہ فرمایا تا کہ اہل طائف کو اسلام کی براہ راست تبلیغ کی جائے۔طائف کا شہر مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلہ پر ہے۔اس دور میں طائف میں قبیلہ بنو ثقیف آباد تھا۔جنکے اہل مکہ سے گہرے دیرینہ دوستانہ تعلقات تھے۔اور رشتہ داریاں بھی تھیں۔شوال 10 نبوی میں آنحضور صلی علیکم حضرت زید بن حارثہ کو ساتھ لیکر طائف تشریف لے گئے۔آپ صلی یکم نے وہاں دس دن قیام کیا۔اور کئی لوگوں کو جن میں کچھ سردار بھی تھے تبلیغ کی۔لیکن کسی نے بھی اسلام کے پیغام میں دلچسپی نہ لی۔بلکہ تکذیب اور استہزاء سے کام لیا۔ان میں ایک کمبخت سر دار عبدیالیل تھا جس نے آپ صلی میں کم کو نہ صرف طائف سے چلے جانے کو کہا بلکہ شہر کے اوباش لڑکوں کو کہا کہ آپ پر پتھر برسائیں اور ان لڑکوں نے نبی معصوم محمد صلی علی ام پر پتھر برسانے شروع کئے اور طائف کے شہر سے باہر تقریباً دو کوس تک برساتے رہے۔آنحضور علی ملی یم کا جسم مبارک زخمی ہو گیا۔اور خون پیروں تک پہنچ کر جمنے لگا۔طائف سے تین میل کے فاصلہ پر عقبہ بن ربیعہ کا ایک باغ تھا آنحضور" اس باغ میں رُکے اور کچھ آرام فرمایا۔اور ایسی حالت میں جبکہ آپ شدید زخمی حالت میں تھے۔اور بظاہر ہر طرف سے ناامیدی کا عالم تھا آپ نے نہایت رفت بھری دعا کی جس کا ذکر حضور نے کیا ہے۔اس دعا کے اصل عربی الفاظ یہ ہیں اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشكُو ضُعَفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، رَبَّ المُسْتَضِعَفِينَ إِلَى مَن تَكِلُنِي، إلى بَعِيدٍ يَجهَمُنِي وَإِلى عَدُ و مَلَكتَهُ ،آمرى إِن لَم يَكُن بِكَ عَلَى غَضَب فَلَا أَبَالِي غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ هِيَ أَوسَعُ بِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَت بِهِ الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيهِ آمَرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِن أَن يَحُلَّ بِي غَضَبُكَ أَويَنزِلَ عَلَى سَخَطِكَ، لَكَ العُتبي حَتَّى تَرضَى وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔ترجمہ : الہی میں اپنی کمزوری، بے سروسامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تجھ سے فریاد کرتا ہوں، اے درماندہ عاجز کے مالک تو مجھے کس کے حوالہ کر رہا ہے، کیا بیگانہ ترش رو کے یا میرے دشمن کے ، اگر تو مجھ سے خفا نہیں تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں، تیری عافیت میرے لیے وسیع ہے، تیری ذات کے نور کے حوالے سے جس سے سب تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور دنیا و آخرت کے تمام مسائل حل ہوتے ہیں اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیر اغضب مجھ پر اترے یا تو مجھ سے ناراض ہو جائے ، ہر حال میں تیری ہی رضا مجھے مطلوب ہے ، ہر طاقت و قوت کا تو ہی تنہا مالک ہے۔(30) 103