سیرة النبی ﷺ — Page 101
تھے۔اور ہم کو سخت ایذائیں پہنچاتے تھے۔کہتی ہیں وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اے ام عبد اللہ کیا کوچ ہے ؟ کہتی ہیں میں نے کہا ہاں۔واللہ ہم کیا کریں جب تم ہم کو بیحد تکلیفیں دیتے ہو اس لئے ہم خدا کے ملک میں سفر کرتے ہیں یہاں تک کہ خدا ہمارے لئے کشادگی پیدا کر دے۔کہتی ہیں عمر بن خطاب نے کہا خدا تمہارا حافظ ہو۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ عمر کے دل پر غم تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔رایتُ لَهُ رقّةٌ لَمْ اكُنْ أَراهَا(28) بہر حال اس واقعہ نے حضرت عمر کو پہلے سے بڑھ کر اسلام کے متعلق غور و فکر پر مجبور کیا۔اور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک کسی حد تک اسلام کی سچائی اُن پر واضح بھی ہو گئی ہو گی۔لیکن مکہ کے اتحاد کی خاطر وہ اسلام کا خاتمہ ضروری سمجھتے تھے۔کیونکہ بظاہر قریش اسلام قبول کرنے والے نہیں اور محمد علی الی یکی اپنے عزم سے ٹلنے والے نہیں۔لہذا اگر محمد کو ختم کر دیا جائے تو تمام جھگڑا ختم ہو جائے گا۔غالباً خیالات کی کسی ایسی ہی ملی جلی کیفیت میں آپ نے تلوار ہاتھ میں لی اور اسلام کے خاتمہ کا عزم لے کر نکلے اور بالآخر خود اسلام کی آغوش میں آگرے۔حضرت عمرؓ کے قبول اسلام اور اعلان اسلام کے متعلق سب سے مشہور روایت وہ ہی ہے جس میں آپ کا اسلام کے خاتمے کے لئے تلوار لے کر نکلنا اور معلوم ہونا کہ آپ کی بہن اور بہنوئی بھی اسلام لاچکے ہیں۔غالباً یہ آخری تقریب پید اہوئی آپ کے اعلان اسلام کی ورنہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اسلام ان کے دل میں بہت پہلے گھر کر چکا تھا۔یہ بھی مسلّم ہے کہ آنحضور صلی لی کام کی خاص دعائیں تھیں جو آپ کو اسلام کی طرف کھینچ رہی تھیں۔ان دعاوں کا ذکر تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہے کہ اے اللہ عمر و بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو طاقت بخش (29) پس یہ دعا حضرت عمرؓ کے حق میں انکی سعید فطرت کے باعث پوری ہوئی۔اور انکی وجہ سے اسلام کو بہت فائدہ ہوا۔عمر جو کبھی تلوار لیکر آنحضور صلی کم کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تھے چند ہی دنوں کے اندر آپ صلی ال نیم کے عاشق صادق ہو گئے۔آنحضور صلی علیم کی تکلیف سے بے چین اور بے اختیار ہو کر آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ایک واقعہ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔محضرت علی ایم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر آپ سے ملنے گئے۔ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔آنحضرت ملا لی یکم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمران کو دیکھ کر رو پڑے۔آپ نے 101