سیرة النبی ﷺ — Page 84
حضور نے ایک اور جگہ تحریر فرمایا۔” یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں دُکھ دئے جاتے ہیں۔مشکل پر مشکل اُن کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرت الہی کو جذب کریں۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی مکی زندگی کا زمانہ مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے۔چنانچہ مکہ میں ۱۳ برس گذرے اور مدینہ میں دس برس ہر نبی اور مامور مین اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دُکھ دیا گیا۔مگار، فریبی، دوکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے۔کوئی برا نام نہیں ہوتا جو اُن کا نہیں رکھا جاتا۔وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دُکھ کو سہہ لیتے ہیں۔لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔اسی طرح پر رسول اللہ صلی کم کو ہر قسم کا ڈکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا بُرا نام آپ کا رکھا گیا ہے۔آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اسْتَفْتَحُوا سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا۔وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کے انتہا پر ہوتی ہے۔کیونکہ اگر اول ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا ہے !! مکہ کی زندگی میں حضرت احدیت کے حضور گرنا اور چلانا تھا اور وہ اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سُننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سرگرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے۔سب کے سب ہلاک ہوئے اور باقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی“ مخالفت بوجه بغض و حسد : ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 1 ، صفحہ 424) مخالفت کی ایک وجہ وہ بغض و حسد ہے جو مامور من اللہ اور اس کی جماعت کے واسطے اس زمانہ کے نام نہاد عالموں، گدی نشینوں اور سر داروں وغیرہ کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔یہ طبقہ ہر عزت و شرف کا حقدار صرف اپنی ذات کو سمجھتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْءانُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ 84