سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 32
58 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 59 انجمن مقرر فرمائی۔اس انتظام کے علاوہ یہ بھی پیشگوئی کی کہ جماعت کی حفاظت اور اس کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی اور خود بھی اسی شرط کی پابندی کا اقرار کیا۔سنبھالنے کے لیے خدا تعالیٰ خود میری وفات کے بعد اسی طرح انتظام کرے گا جس طرح کہ آپ سے بھی اس میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تو آپ نے اُسی وقت کہہ دیا کہ مجھے پہلے نبیوں کے بعد کرتا رہا ہے اور ایسے لوگوں کو کھڑا کرتا رہے گا جو جماعت کی نگرانی اسی تو اس تجویز میں دھوکے کی بو آتی ہے لیکن پھر بھی حجت پوری کرنے کے لیے ایک مضمون لکھ طرح کریں گے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر نے کی تھی۔کر اُس میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔اس مضمون میں آپ نے بڑے زور سے آریوں کو صلح سلسلہ کی ضروریات تعلیمی وتبلیغی کے لیے الوصيّة کی اشاعت تک مدرسہ اور میگزین کی کی دعوت دی اور نہایت نرمی سے صرف اسلام کی خوبیاں ان کے سامنے پیش کیں۔ہماری انتظامی کمیٹیاں تھیں اور مقبرہ کے لیے ایک جدید انجمن تجویز ہوئی مگر خدام کی درخواست پر جماعت کے قریباً پانچ سو آدمی ٹکٹ خرید کر اس کا نفرنس میں شامل ہوتے رہے اور ہمارے 1906ء کے دسمبر میں آپ نے اس انجمن کی بجائے جسے وصیتوں کے اموال کی حفاظت باعث دوسرے مسلمان بھی شامل ہوتے رہے لیکن جب آریوں کی باری آئی تو انہوں نے کے لیے مقرر کیا گیا تھا ایک ایسی انجمن قائم کر دی جس کے سپر د دینی اور دُنیاوی تعلیم کے نہایت گندہ طور پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور بُرے سے بُرے الفاظ مدارس ریویو آف ریلیجنز مقبره بهشتی وغیرہ سب متفرق کام کر دیئے اور مختلف حضور کی نسبت استعمال کیے لیکن ہم آپ کی تعلیم کی ماتحت خاموشی سے ان لیکچروں کو سنتے انجمنوں کی بجائے ایک ہی صدرانجمن قائم کر دی۔رہے اور کسی نے اُٹھ کر اتنا بھی نہیں کہا کہ ہم سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔21 / مارچ 1908ء میں سروسن صاحب بہادر فنانشل کمشنر صوبہ پنجاب قادیان 1907 ء میں ستمبر کے مہینے میں آپ کا لڑکا مبارک احمد اس پیشگوئی کے مطابق تشریف لائے۔چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب کا ایک ایسا معزز اعلیٰ عہد یدار قادیان آیا۔جو اس کی پیدائش کے وقت ہی چھاپ کر شائع کر دی گئی تھی ، ساڑھے آٹھ سال کی عمر میں آپ نے تمام جماعت کو ان کے استقبال کا حکم دیا اور اپنی سکول گراؤنڈ میں اُن کا خیمہ لگوایا فوت ہو گیا۔اسی سال صدرانجمن کی مختلف شہروں میں شاخیں قائم کرنے کی تجویز کی گئی۔دومر داور اور ان کی دعوت بھی کی۔چونکہ آپ کی نسبت آپ کے مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ ایک عورت امریکن آپ سے ملنے کے لیے آئے جن سے دیر تک گفتگو ہوئی اور انہیں مسیح کی در پردہ گورنمنٹ کے مخالف ہیں کیونکہ افسرانِ بالا سے باوجود اپنے قدیم خاندانی تعلقات کے کبھی نہیں ملتے آپ نے عملی طور پر اس اعتراض کو دور کر دیا اور فنانشل کمشنر صاحب سے بعثت ثانیہ کی حکمت اور اصلیت سمجھائی۔اس سال پنجاب میں کچھ ایجی ٹیشن پیدا ہو گیا اس پر آپ نے اپنی جماعت کو گورنمنٹ ملاقات کے لیے خود تشریف لے گئے۔اُس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی کا ہر طرح وفادار رہنے کی تاکید فرمائی اور مختلف جگہ پر آپ کی جماعت نے اس شورش کے جماعت کے بھی تھے۔صاحب ممدوح نے نہایت تکریم کے ساتھ اپنے خیمہ کے دروازے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ریسیو کیا اور آپ سے مختلف امور آپ کے سلسلہ کے متعلق فرو کرنے میں بلا کسی لالچ کے خدمت کی۔دسمبر میں آریوں نے لاہور میں ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کی اور سب مذاہب کے دریافت کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے۔اُن لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔لیکن یہ شرط رکھی کہ کسی مذہب کے پیروؤں کو دنوں میں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور حکام انگریزی اس کی کونسی ٹیوشن پر ایسے خوش تھے