سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 31
56 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 57 آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی اور ایسے وقت میں اگر مخلص مرید پاس کھڑا تھا وہ جھٹ آپ کو بچانے کے لیے آپ کے اور حملہ کرنے والے کے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔آپ نے ہاتھ درمیان میں آ گیا۔چونکہ گاڑی کا دروازہ کھلا تھا سونٹا اُس پر رک گیا اور اُس شخص کے بہت سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اُس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی۔اس پر کم چوٹ آئی ورنہ ممکن تھا کہ اُس شخص کا خون ہو جاتا۔آپ کے گاڑی میں بیٹھنے پر گاڑی آپ نے بھی اُس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا۔مولویوں نے شور چلی لیکن لوگوں نے پتھروں کا مینہ برسانا شروع کر دیا گاڑی کی کھڑکیاں بند تھیں۔اُن پر پتھر مچادیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔آپ نے جواب میں گرتے تھے تو وہ گھل جاتی تھی۔ہم انہیں پکڑ کر سبنھالتے تھے لیکن پتھروں کی بوچھاڑ کی وجہ فرمایا که قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے بلکہ جب شفا ہو سے ہاتھوں سے چُھوٹ چُھوٹ کر وہ گر جاتی تھیں لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی کے یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔لیکن جوش میں چوٹ نہیں آئی صرف ایک پتھر کھڑکی میں سے گذرتا ہوا میرے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بھرے ہوئے لوگ کب رُکتے ہیں۔شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرو نہ ہو لگا۔چونکہ پولیس گاڑی کے چاروں طرف کھڑی تھی بہت سے پتھر اُسے لگے جس پر پولیس سکا۔آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔اُس کے نظم نے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا اور گاڑی کے آگے پیچھے بلکہ اُس کی چھت پر بھی پولیس مین بیٹھ پڑھنے پر لوگ خاموش ہو گئے۔تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچا دیا گئے اور دوڑا کر گاڑی کو گھر تک پہنچایا۔لوگوں میں اس قدر جوش تھا کہ باوجود پولیس کی اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہو گئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لیے آگے موجودگی کے وہ دُور تک گاڑی کے پیچھے بھاگے۔دوسرے دن آپ قادیان واپس تشریف بڑھے۔پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی روان سے روکے نہ رکتی لے آئے۔تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔جب وفات کی پیشگوئی اور سلسلہ کا نظام۔صدرانجمن کا قیام پولیس سے اُن کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش دسمبر 1905ء میں آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی وفات قریب ہے جس پر آپ نے ایک 6600 ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی۔اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فوراً سپاہی رسالہ ”الوصية لکھ کر اپنی تمام جماعت میں شائع کر دیا اور اُس میں جماعت کو اپنی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔پولیس لوگوں کو اس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور وفات کے قرب کی خبر دی اور اُن کو تسلی دی اور الہام الہی کے ماتحت ایک مقبرہ بنائے جانے دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی ، آپ اُس میں سوار ہونے کے لیے کا اعلان فرمایا اور اُس میں دفن ہونے والوں کے لیے یہ شرط مقرر کی کہ وہ اپنی تمام جائیداد تشریف لے چلے۔آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار کا دسواں حصہ اشاعت اسلام کے لیے دیں اور تحریر فر مایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہو کر چلے ہیں۔اس پر جو لوگ لیکچر ہال سے باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لیے آگے ہے کہ اس مقبرہ میں صرف وہی دفن ہو سکیں گے جو جنتی ہوں گے اور ان اموال کی حفاظت بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سونٹا آپ کو مارا۔ایک کے لیے جو اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لیے لوگ بغرض اشاعت اسلام دیں گے ایک