سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 27

48 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 49 ترجمہ آہستہ آہستہ لوگوں کو اصل کتاب کے مطالعہ سے غافل کر دیتا ہے۔چونکہ ترجمہ اصل اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اس اسپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔آپ حضرت کتاب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اس لیے آخر کار وہ جماعت کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔صاحب کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر آپ کے اس ارادہ کو پورا کرنے کی طرف آپ کی جماعت کی توجہ لگی ہوئی ہے اور انشاء اللہ ہجوم خلائق کے سبب راستہ نہ ملتا تھا۔اہلِ شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ تعالی ایک دن کامیابی ہوجائے گی۔کی زیارت کے لیے آئے تھے۔قریباً ایک ہزار آدمی نے اس جگہ بیعت کی اور جب آپ منارة امسیح کی بنیاد اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض پیشگوئیوں کی بنا عدالت میں حاضر ہونے کے لیے گئے تو اس قدر مخلوق کا رروائی مقدمہ سننے کے لیے موجود یر کہ مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔دور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔پہلی ہی پر اُترے گا ایک منارہ کی بنیاد رکھی تا کہ وہ پیشگوئی لفظ بھی پوری ہو جائے۔گو اس پیشگوئی پیشی میں آپ بری کیے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔کے حقیقی معنے یہی تھے کہ مسیح موعود کھلے کھلے دلائل اور براہین کے ساتھ آئے گا اور تمام دنیا پر جماعت کی ترقی اور کرم دین والے مقدمہ کا طول پکڑنا اس کا جلال ظاہر ہو گا اور اس کو بہت بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ علم تعبیر الرؤیا میں منارے سے 1903 ء سے آپ کی ترقی حیرت انگیز طریق سے شروع ہوگئی اور بعض دفعہ ایک ایک مراد وہ دلائل ہیں جن کا انسان انکار نہ کر سکے اور بلندی پر ہونے کے معنے ایسی شان حاصل کرنے کے ہیں جو کسی کی نظر سے پوشیدہ نہ رہے اور مشرق کی طرف آنے سے مراد ایسی ترقی دن میں پانچ پانچ سو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ ہوتی ہے جسے کوئی نہ روک سکے۔: مقدمہ کرم دین (ازالہ حیثیت عرفی) 1902ء کے آخر میں حضرت مسیح بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور پنجاب سے نکل کر دوسرے صوبوں اور پھر دوسرے موعود علیہ السلام پر ایک شخص کرم ملکوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا۔اسی سال جماعت احمدیہ کے لیے ایک دردناک حادثہ پیش آیا کہ کابل میں اس دین نے ازالہ عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لیے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔چنانچہ آپ جنوری 1903 ء میں وہاں تشریف لے گئے۔یہ سفر آپ جماعت کے ایک برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی مقدمات کا سلسلہ جو جہلم میں شروع ہو کر بظاہر ختم ہو گیا تھا پھر بڑے زور سے شروع ہو کے لیے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو گیا۔یعنی کرم دین جس نے پہلے وہاں آپ کے خلاف مقدمہ کیا تھا اُسی نے پھر گورداسپور سکتا۔جس وقت آپ جہلم کے سٹیشن پر اُترے ہیں اُس وقت وہاں اس قد را نبوہ کثیر تھا کہ میں آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔اس مقدمہ نے اتنا طول کھینچا کہ جسے پلیٹ فارم پر کھڑا ہونے کی جگہ نہ رہی تھی بلکہ اسٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران میں ایک مجسٹریٹ بھی بدل گیا اتنی بھیڑ تھی کہ گاڑی کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا حتی کہ افسرانِ ضلع کو انتظام کے لیے خاص اور اس کی پیشیاں ایسے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے رکھی گئیں کہ آخر مجبور ہو کر آپ کو گورداسپور