سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 12
19 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے والد کی وفات اور الہی تصرفات ” جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب بمقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہی کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے:۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 220-219) غرض جس دن حضرت صاحب کے والد صاحب نے وفات پائی تھی اُس دن مغرب سے چند گھنٹے پہلے ان کی وفات کی اطلاع آپ کو دے دی گئی اور بعد میں خدا تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارا انتظام فرما دے گا۔جس دن یہ الہامات ہوئے پاتے تھے جو ان کی حیات سے مشروط تھی اس لیے یہ خیال گذرا کہ اُن کی وفات اُسی دن شام کو بعد مغرب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے اور آپ کی زندگی کا ایک نیا کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں گذر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے۔اس الہام کے ساتھ ایسا دل قوی ہوا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔جب مجھ کو الہام ہوا کہ الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ تو میں نے اُسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔تب میں نے ایک ہند وکھتری ملا وامل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہند و کو اس کام کے لیے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جاوے۔چنانچہ مولوی دور شروع ہوا۔بعض مشکلات اور آپ کا استقلال آپ کے والد صاحب کی جائیداد کچھ مکانات اور دوکانات بٹالہ، امرتسر اور گورداسپور میں تھی اور کچھ مکانات اور دوکانیں اور زمین قادیان میں تھی۔چونکہ آپ دو بھائی تھے اس لیے شرعا و قانونا وہ جائیداد آپ دونوں کے حصہ میں آتی تھی۔چونکہ آپ کا حصہ آپ کے گزارہ کے لیے کافی تھا لیکن آپ نے اپنے بڑے بھائی سے وہ جائیداد تقسیم نہیں کرائی اور جو کچھ وہ دیتے اُس پر گزارہ کر لیتے اور اس طرح گویا والد کے قائم مقام آپ کے بڑے بھائی ہو گئے۔لیکن چونکہ وہ ملازم تھے اور گورداسپور رہتے تھے اس لیے اُن دنوں آپ کو بہت تکلیف ہو گئی حتی کہ ضروریات زندگی کے حاصل کرنے میں بھی آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور یہ تکلیف آپ کو آپ کے بھائی کی وفات تک برابر رہی اور یہ گویا آپ کے لیے آزمائش کے سال تھے اور آپ نے اُن آزمائش کے دنوں میں صبر و استقلال سے صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپے تیار ہوکر کام لیا وہ آپ کے درجہ کی بلندی کی بین علامت ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ آپ کا اپنے 18