سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 26
46 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 47 احمدی مسلمان لکھوائیں گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر ٹپکتا تھا اور نہایت پر رعب و ہیبت حالت تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے غنودگی کے عالم میں ہیں۔یہ تقریر ایسی لطیف اور اس کی زبان ایسی بے مثل ہے کہ بڑے بڑے عربی دان اس کی کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔اسی سال آپ کے مخالف رشتہ داروں نے آپ کو اور نظیر لانے سے قاصر ہیں اور اس کے اندر ایسے ایسے حقائق و معارف بیان ہوئے ہیں کہ مقدمه انهدام دیوار آپ کی جماعت کو دکھ دینے کے لیے (بیت اقصیٰ) کے عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔یہ تقریر خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور دروازہ کے آگے ایک دیوار کھینچ دی جس کے سبب نمازیوں کو بہت دور سے پھیر کھا کر آنا سب کی سب عربی زبان میں ہے۔پڑتا تھا اور اس طرح بہت تکلیف اور حرج ہوتا تھا۔جب انہوں نے کسی طرح نہ مانا تو مجبور عربی زبان کی ترویج کیلیے اسباب کا سلسلہ اس زمانہ میں آپ نے اپنی ہو کر جولائی 1901ء میں آپ کو عدالت میں نالش دائر کرنی پڑی اور اگست سنہ مذکور میں وہ جماعت کو عربی سکھانے کیلیے مقدمہ آپ کے حق میں فیصل ہوا اور دیوار گرائی گئی اور خرچہ مقدمہ بھی آپ کے مخالفوں پر ایک نہایت لطیف تجویز فرمائی جو یہ تھی کہ نہایت فصیح اور آسان عبارت میں کچھ جملے بنائے جنہیں لوگ یاد کر لیں اور اس طرح آہستہ آہستہ اُن کو عربی زبان پر عبور حاصل ہو جائے پڑا لیکن آپ نے اُن کو معاف کر دیا۔ریویو آف ریلیجنز کا اجراء 1902 ء میں آپ نے ولایت میں تبلیغ اسلام کے اور اُن فقرات میں یہ خوبی رکھی گئی تھی کہ وہ ایسے امور کے متعلق ہوتے تھے جن سے انسان کو لیے ایک ماہوار رسالہ نکالنے کا حکم دیا جور یو یو آف روز مرہ کام پڑتا ہے اور جن میں ایسی اشیاء کے اسماء اور ایسے افعال استعمال کیے جاتے تھے ریلیجنز کے نام سے بفضل خدا اب تک جاری ہے۔اس کا ایک ایڈیشن انگریزی اور جو انسان روز مرہ بولتا ہے۔کچھ اسباق اس سلسلہ کے نکلے لیکن بعد میں بعض زیادہ ضروری ایک اُردو میں نکلتا ہے۔اس ریویو کے ذریعہ سے امریکہ اور یورپ میں نہایت احسن طور پر امور کی وجہ سے یہ سلسلہ رہ گیا تا ہم آپ اپنی جماعت کے واسطے ایک راہ نکال گئے جس پر تبلیغ اسلام ہورہی ہے اور اس کے زبر دست مضامین کی دوست دشمن نے تعریف کی ہے۔چل کر وہ کامیاب ہو سکتی ہے۔آپ کا منشاء یہ تھا کہ ہر ایک ملک کی اصل زبان کے علاوہ ابتداء میں علاوہ دیگر ممبران سلسلہ کے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس رسالہ میں عربی زبان بھی مسلمانوں کے واسطے مادری زبان ہی کی طرح ہو جائے اور عورت مردسب مضمون دیا کرتے تھے جو دراصل اُردو میں لکھے جاتے تھے پھر اُن کا ترجمہ انگریزی رسالہ اسے سیکھیں تا کہ آئندہ نسلوں کے لیے اس کا سیکھنا آسان ہو اور بچے بچپن میں ہی اپنی میں شائع ہوتا تھا۔ان مضامین کا پڑھنے والوں پر نہایت گہرا اثر پڑتا تھا اور یہی مضامین تھے مادری زبان کے علاوہ عربی زبان سیکھ لیں اور یہ ارادہ تھا جس کے پورا ہوئے بغیر اسلام اپنی جنہوں نے ریویو کی عظمت پہلے ہی سال میں قائم کر دی تھی۔جڑوں پر پوری طرح نہیں کھڑا ہو سکتا کیونکہ جو قوم اپنی دینی زبان نہیں جانتی وہ کبھی اپنے اس سال عیدالاضحیہ کے موقعہ پر جو حج کے دوسرے دن ہوتی ہے الہامِ دین سے واقف نہیں ہوسکتی۔اور جو قوم اپنے دین سے واقف نہیں وہ کبھی اپنے دشمنان دین خطبہ الہامیہ الہی کے ماتحت ایک تقریر آپ نے فی البدیہ عربی زبان میں کی۔کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور جو قو میں دین سے واقف ہونے کے لیے صرف تر جموں اُس وقت ایک عجیب حالت آپ پر طاری تھی اور آپ کا چہرہ سرخ ہور ہا تھا اور چہرہ سے نور پر قناعت کرتی ہیں وہ نہ دین سے واقف رہتی ہیں نہ اُن کی کتاب سلامت رہتی ہے کیونکہ