سیرت احمد — Page 81
149 148 اچھی ہوں گی یا نہیں۔میں نے کہا ٹھر تو نہیں سکتا۔اگر کوئی دوائی دے سکتے دروازہ پر کھڑا اسے اندر بھیجتا تھا۔اور وہ نہ جاتا تھا۔بلکہ رونے لگ گیا تھا۔ہیں تو دے دیں۔چنانچہ انہوں نے ایک مرہم بنا کر دے دی۔میں نے لے شرماتا تھا۔اس کی آواز سن کر حضرت صاحب تشریف لائے اور فرمایا کیا لی اور تین دن استعمال کیا۔بفضل خدا چوتھے دن بالکل آرام ہو گیا۔یہ ہے۔میں نے کہا حضرت یہ جانے کے لئے گھبراتا ہے۔اجازت لینے کے لئے سب حضور کی دعا کا نتیجہ تھا اور میری آنکھیں بفضل خدا اب تک اچھی ہیں۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب تو مالیر کوٹلہ گئے ہوئے تھے۔میں ۳۳ دن تک حضرت صاحب کے پاس رہا۔کوئی مہمان کہا گیا تو روتا ہے۔آپ نے فرمایا۔واہ تیرے پیدا ہونے کے لئے تو ہم رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔تو اب یہاں رہنے سے تنگ ہے۔ابھی تو ہم نے تیری دعوت کرنی ہے۔پھر دوسرے دن حضور باغ میں تشریف لائے۔وہاں سب احباب کو اکٹھا کر کے برانہ کی دعوت دی۔پھر ہنس کر عبدالرحیم میرے سوا آپ کے ساتھ کھانا کھانے والا نہ تھا۔صرف حامد علی ہو تا تھا۔کو فرمایا کہ لو میاں تمہاری دعوت ہو گئی۔اب کل سے تمہیں رخصت آپ دو پہر کو اوپر بالا خانے میں بلا لیا کرتے تھے۔اور دو دو گھنٹے وہاں بیٹھتے۔وہیں کھانے کھاتے اور چائے کی چاء دانی بھی بھر کر رکھ لیتے۔اور ہنس کر ہے۔ایک دفعہ میں قادیان میں آیا ہوا تھا کہ میرے ایک پھوڑا نکل آیا۔جس فرماتے یا تم نے اس کو پینا ہے یا میں نے پینا ہے۔بعض اوقات تھوڑا سا گڑ لا کو کار بنکل کہتے ہیں۔ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کو دکھایا۔انہوں نے اس کو چیر کر ڈال دیتے۔اور جب میں پوچھتا حضرت گڑ کیوں ڈالا ہے۔فرماتے ہیں یہ اچھا ہوتا ہے۔میں نے عرض کیا۔پھر مصری نہ ڈالی جایا کرے۔آپ فرماتے نہیں نہیں۔یہ اور بات ہے۔دیا۔میں مولانا نور الدین صاحب کے پاس گیا۔میرے ہلنے جلنے سے معلوم کر لیا کہ کوئی تکلیف ہے۔پوچھا خیر ہے۔میں نے کہا پھوڑا نکل آیا ہے۔آپ نے دیکھا اور کہا افسوس چیرا دلا دیا۔مولوی عبد الکریم مرحوم کے بھی آپ کی عادت تھی۔جب میں کچھ دن آکر ٹھہرتا۔اور جب جانا چاہتا۔میں پھوڑا تھا۔وہ بھی چیر کر خراب کر دیا گیا۔یہ آپ نے برا کیا۔خیر میں کیا کر تو پہلی دفعہ کبھی اجازت نہ دیتے۔فرمایا کرتے ایک جمعہ اور پڑھ کر جانا۔اس کے بعد فرماتے ایک جمعہ اور پڑھ کر جانا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھے دیر تک ٹھہرایا۔میں نے جانا چاہا۔میرے ساتھ میرا لڑ کا عبدالرحیم جو اس وقت تقریباً چھ سال کا ہو گا وہ بھی جانے کے لئے گھبرا تا تھا۔میں نے اس کو کہا کہ تو اندر جا اور اجازت مانگ۔اگر اجازت ہو گی تو چلیں گے۔میں سکتا تھا۔ڈاکٹر صاحب علاج کرتے رہے۔ایک ماہ کے قریب علاج ہو تا رہا۔کچھ فائدہ نہ ہوا۔بلکہ زخم ہتھیلی کے برابر چوڑا ہو گیا۔آخر تنگ آکر میں نے ارادہ کر لیا کہ لاہور چل کر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب یا ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب سے علاج کرواؤں۔حامد علی کی معرفت حضور کے پاس عریضہ بھیجا۔حامد علی نے آکر کہا۔حضور بلاتے ہیں۔میں حاضر ہوا۔اطلاع 1