سیرت احمد

by Other Authors

Page 74 of 131

سیرت احمد — Page 74

135 134 پیدا نہ کرے۔پھر خاص دعا ہوتی ہے۔میں جب خاص دعا کرتا ہوں خداوند تعالیٰ کی عادت ہے کہ مجھے اس کے متعلق جواب دے دیتا ہے۔مگر دیکھو جب میں اپنی بیماری کے متعلق دعا کرتا ہوں۔کوئی جواب نہیں ملتا۔کیوں نہیں ملتا۔آنحضرت کی زبان سے جو نکلا تھا۔مسیح دو چادروں میں آئے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کی زبان کا اس قدر پاس ہے کہ میری بیماری کے متعلق جواب نہیں ملتا۔ایک دن فرمایا۔خواب اور رویا میں انسان اگر کچھ عذاب یا تکلیف اپنے تئیں دیکھے تو وہ عذاب دعا صدقہ سے مل جاتا ہے آپ نے ایک مثال بتائی۔ایک شخص سفر کی تیاری کر کے اپنے پیر کے پاس گیا اور اجازت چاہی۔انہوں نے کہا۔اس سفر میں تم مارے جاؤ گے یہ سفر نا مبارک ہے سفر نہ کرنا وہ چلا گیا۔چونکہ وہ تیاری کر چکا تھا۔اس لئے بار بار دل میں سفر کی تھی۔آخر ایک اور باخد ا کامل انسان اس جگہ تھا۔وہ اس کے پاس گیا۔اور کہا سفر کرنا چاہتا ہوں۔اگر اجازت دیں اور دعا کریں اور فرماویں تو میں سفر کروں۔انہوں نے فرمایا ہاں جاؤ خد ا مبارک کرے گا۔انشاء اللہ فائدہ ہو گا۔غرض وہ سفر کو چلا گیا۔ایک دن ایک جگہ نہانے لگا۔ہزار روپیہ کی تھیلی جو پاس تھی۔کھول کر رکھ دی بھول گیا اور چلا گیا۔رات کو جہاں پہنچا وہاں سو رہا۔خواب میں دیکھا ایک شخص قتل کے ارادہ سے آیا ہے اور تلوار ماری جب تلوار لگی۔اس کی چیخ نکل گئی۔آنکھ کھل گئی۔اٹھا تو د کرا ادھر ادھر کچھ نہ پایا۔بدن کو جو ہاتھ لگا۔کمر پر تھیلی نہ پائی۔یاد آیا تو بھاگا جہاں نہایا تھا۔وہاں آکر دیکھا تھیلی موجود پائی اور اٹھا کر چلا گیا۔سودا خریدا اور بیچا۔بڑا نفع ہوا۔واپس آیا تو تحائف لایا۔دل میں سوچا پہلے پیر کے پاس لے جاؤں یا اس شخص کے پاس۔سوچ سوچ کر پیر کے پاس لے گیا۔آخر جب سامنے گیا۔پیر نے کہا۔بھاگ جا۔اس شخص کے پاس تحفہ لے جاجس نے ستر بار تیرے لئے دعا کی اور اس کو بلا کو جو واقع ہونے والی تھی خواب میں دکھلواکر ٹلوا دیا۔ایک دفعہ مجھے ترقی سررشتہ داری کے عہدہ کا خیال آیا۔میں یہاں آیا ہوا تھا۔میں نے چاہا اگر خدا ترقی دے تو دینی خدمات کی بھی ترقی ہو۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ میں نے اپنی خدمات میں کچھ زیادتی کرنی چاہی ہے۔حضور سے اظہار عرض کیا ہے کہ ایسا نہ ہو دل خیانت کرے۔آپ نے فرمایا۔آپ اپنی طرف سے عہد کر لیں خداوند تعالی خود پورا کرے گا۔چنانچہ میں نے اپنے دوستوں سے ذکر کر دیا کہ ترقی ہو جائے گی۔باوجود بہت سے اسباب مخالف پیدا ہونے کے اور مخالفتوں کے خداوند تعالیٰ نے تمام روکوں کو دور کر دیا۔اور ترقی دے دی۔روایات ۶۲ عبد اللہ خان (دیوان چند) ولد چنت رائے گجرات کوئی شخص بوڑے خان صاحب ڈاکٹر کو ازالہ اوہام بغرض تبلیغ دے گیا۔انہوں نے مجھ سے پڑھوائی اور سنی۔اس کے بعد جنگ مقدس کتاب مل گئی۔وہ بھی میں نے ڈاکٹر صاحب کو سنائی۔اس طرح پر مجھے حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کا پتہ چل گیا۔میری طبیعت اسلام کی طرف 1 ! ¦ !