سیرت احمد — Page 34
55 54 روایت ۲۹ کی عمر سے مہندی لگاتا ہوں۔پوشاک اس وقت بھی سادہ تھی۔اکثر غرارہ چوہدری کریم بخش صاحب نمبردار رائے پور ریاست نابھہ پہنتے تھے ، ایک شتری چوغہ پہنا کرتے تھے۔جو کئی سال رہا۔رات کو حافظ محمد جمیل صاحب سے جو کہ میرے استاد تھے تراویح میں ایک دفعہ میں قادیان آیا ہوا تھا۔میری بیوی بچے ساتھ تھے۔گھر سے اطلاع آئی کہ میری بھاوجہ پلیگ سے فوت ہو گئی اور میرے بھائی کی لڑکی بھی قرآن شریف سنتے تھے آٹھ رکعت میں اور صبح کے وقت نماز کے بعد کبھی فجر فوت ہو گئی ہے۔میں نے حضرت صاحب سے اجازت چاہی۔آپ نے فرمایا کے بعد کبھی عصر کے بعد ٹہلتے ٹہلتے مجھ سے وہ حصہ قرآن کا سنتے تھے جو رات جب وہاں پلیگ ہے تو ہم اجازت نہیں دیتے۔وہ تو خود جلتے ہیں تمہیں جلانا کو سنا تھا۔اس وقت حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب زندہ تھے۔غفارہ چاہتے ہیں۔وہ خود مر رہے ہیں تمہیں مارنا چاہتے ہیں۔ان کو لکھ دو حضرت کشمیری حضرت صاحب کا اس وقت خادم تھا۔اور میں اس کے ساتھ صاحب ہم کو اجازت نہیں دیتے۔جب پلیگ سے امن ہو جائے تو پھر وہ حضرت صاحب کے مکان پر آیا۔چارپائی بچھی تھی میں اس پر بیٹھ گیا آپ اطلاع دیں۔اس وقت تم کو اجازت ملے گی میاں کریم بخش ! غور کرو۔اگر نے اوپر دریچہ سے دیکھ لیا۔پوچھا کون ہے۔خادم نے کہا حافظ حامد علی میں ایک مکان گر رہا ہو اور کوئی کسی کو کہے کہ نیچے آکر کھڑا ہو جا۔وہ اس کو کیا اٹھنے لگا۔آپ نے فرمایا اٹھو نہیں بیٹھے رہو۔مجھے اس وقت حضرت صاحب کھے گا۔یہی کہ تو مجھے مارنا چاہتا ہے۔اور میرے نزدیک تو پلیگ زدہ گاؤں کے چہرہ سے محبت تھی اور بوجہ خلق عظیم کے مجھے حضور سے بہت حسن ظن میں جانا حرام موت مرنا ہے۔باہر سے ہر گز اس طرح پلیگ زدہ جگہ میں نہ تھا۔پھر تقریباً ہمیں روزہ کو چلا گیا۔پھر تقریباً آٹھ سال کے بعد میں بیمار ہو جانا چاہئے اور نہ پلیک والی جگہ سے دوسری محفوظ جگہ یعنی آبادی میں جانا گیا۔میں علاج کرانے امرتسر گیا تھا۔ایک ہفتہ رہ کر واپس آیا۔چاہئے۔کیونکہ اس سے وہاں نقصان ہو گا۔روایت ۳۰ شیخ حامد علی صاحب قریباً چالیس سال گذرے قادیان میں رمضان شریف آیا۔میرا استاد قرآن شریف سنانے آیا تھا۔حضور داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔اور آپ نے فرمایا۔میں بیس سال کتهھو ننگل کے پڑاؤ پر حضرت صاحب سے ملا۔آپ کے ہمراہ ملا وامل تھے اور چاہ کے فرش پر بیٹھے قلچہ کھا رہے تھے۔میں نے پہچاننا چاہا مگر سمجھ میں نہ آیا۔میں نے پوچھا میاں جی آپ کون ہیں۔آپ نے فرمایا۔چاہ سے پانی نکالو پھر بتادیں گے۔میں نے پانی نکالا۔پانی کی کلی کی پھر پیشاب کرنے کے I