سیرت احمد — Page 26
39 38 خزانہ کھلا پڑا ہے اور باہر گڑے کھڑے ہیں۔لوگ خزانہ سے روپیہ نکال کر گڑوں میں بھرتے ہیں۔بادشاہ نے پوچھا تم کون لوگ ہو۔انہوں نے کہا۔ہم فرشتے ہیں۔کہا یہ کیا کرتے ہو۔انہوں نے کہا جن لوگوں کو تم نے موقوف کیا ہے۔ان کا رزق یہاں تھا۔وہ نکال کر جہاں وہ گئے ہیں وہاں لے جائیں گے۔بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اور سوچا۔میرا تو مفت کا احسان تھا اور رزاق تو وہ ہے۔ہر ایک کو رزق دیتا ہے۔اور تخفیف سے باز آیا۔پھر فرمایا۔ہماری انجمن نے بھی کچھ تخفیف کی مگر نتیجہ یہ ہوا کہ آمد اور بھی کم ہو گئی۔روایت ۲۶ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ نے بعض دفعہ ایسا کیا کہ جب کوئی کتاب جیسی لکھتے تو خواجہ کمال الدین صاحب کو دکھلاتے اور فرماتے کہ خواجہ صاحب اس کو پڑھ کر دیکھ لو۔کوئی حرف اس میں ایسا تو نہیں جو قانونا نہ شائع ہونا چاہئے۔خواجہ صاحب کتاب کو دیکھ کر واپس دے دیتے اور عرض کرتے حضور دیکھ لی ہے۔آپ فرماتے ساری دیکھ لی ہے۔وہ کہتے نہیں ساری تو نہیں کچھ آگے پیچھے سے دیکھی ہے۔آپ فرماتے نہیں ساری پڑھ جاؤ۔اور ایک دن فرمایا ہم تو خواجہ صاحب کو کتاب دیکھنے کے لئے زیادہ تاکید اس لئے کرتے ہیں تاکہ یہ کتاب کو پڑھ لیں۔اور ان کو واقفیت ہو جائے۔مگر باوجود اس قدر تاکید کے بھی یہ توجہ نہیں کرتے اور ساری کتاب نہیں پڑھتے۔روایت ۲۷ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے۔میں دارالامان میں آیا ہوا تھا۔حضور مسجد مبارک کی چھت پر (نماز مغرب کے بعد) تشریف رکھتے تھے۔چند ایک مہمان اور چند ایک مہاجر موجود تھے۔ایک صاحب سہارنپور سے آئے ہوئے تھے۔وہ معزز آدمی تھے۔مگر ضعیف العمر تھے۔انہوں نے حضرت صاحب کی بیعت کی۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے حضرت صاحب کے پاس سفارش کی یہ صاحب جنہوں نے بیعت کی ہے۔بڑے معزز آدمی ہیں اور بڑے اخلاص سے انہوں نے بیعت کی ہے۔ان کا ایک کام بھی ہے۔وہ یہ ہے کہ کئی سال سے ایک مشین ایجاد کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں اس میں تھوڑی سی کسر رہ گئی ہے۔یہ خواہش کرتے ہیں کہ حضور دعا فرما دیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرما دے۔وہ کسر نکل جاوے اور یہ کامیاب ہوں۔اس عرصہ میں یہ زیر بار بھی بہت ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا۔مجھے تو ان کی مشین کی فکر ہے۔اگر ان کی مشین (وجود کی اصلاح) درست ہو گئی تو سب کچھ ہو گیا۔باقی یہ ایجادیں اور مشینیں تو بہتیری ہو رہی ہیں اور جب انسان کی مشین درست ہو جاتی ہے تو یہ مشینیں تو خود بخود چل پڑتی ہیں۔ایک دن سیر میں حضور نے ذوالفقار علی صاحب سے فرمایا کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ نواب صاحب رامپوربی کے لفظ سے بڑے گھبراتے ہیں۔یہ لوگ عربی کی ناواقفیت کی وجہ سے زیادہ چڑتے ہیں۔بچی پیشگوئیاں کرنے