سیرت احمد

by Other Authors

Page 47 of 131

سیرت احمد — Page 47

81 80 صاحب نے دیکھ لیا۔اس پر چہ کو دیکھ کر اہل مجلس سے فرمایا آج تمہیں ایک تماشہ دکھاویں گے۔آج ہم یہ پرچہ حضرت صاحب کے روبرو پیش کریں گے۔دیکھنا آج کیا ہو گا۔چنانچہ ظہر کے وقت جب حضرت صاحب تشریف لائے۔نماز کے بعد مولوی صاحب نے وہ پرچہ حضرت صاحب کو دکھایا اور فرمایا ان کی حالت اب یہاں تک پہنچ گئی۔حضور نے پرچہ دیکھا۔اس کو پڑھتے پڑھتے حضور کا رنگ متغیر ہو گیا۔اور وہ پرچہ لے کر اندر تشریف لے گئے عصر کے وقت باہر تشریف لائے اور رسالہ " قادیان کے آریہ اور ہم " کا مسودہ لکھ لائے۔اور مسودہ جماعت کو سنایا اور کہا۔ان کا اب وقت آگیا ہے۔اخبار والے سال کے اندراند رفتا ہوں گے۔اور بڑے زور سے فرمایا یہ قوم ہی سو سال کے اندر تباہ ہو جائے گی بلکہ بعض تم میں سے دیکھتے ہوں گے کہ اس قوم کا خاتمہ ہو جائے گا۔چنانچہ اخبار کا سال کے اندر اندر خاتمہ ہو گیا اور اس کے کارکن اور ایڈیٹروغیرہ بھی سال کے اندر ہی مرگئے۔باقی جو حالت قوم کی اس دن سے ہوئی۔وہ بھی لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ایک دن حضور کرم دین کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف رکھتے تھے، دو تین آدمی آئے اور بار بار عرض کی حضور کرم دین کے ساتھ راضی نامہ کرلیں وہ مقدمہ سے دست برداری نامہ دیتا ہے۔آپ فرماتے تھے، دست برداری نامہ کیا ہوتا ہے وہ لکھ دے کہ وہ خط میرے ہی تھے جن کو غلط ثابت کرنے کا میں نے مقدمہ دائر کیا ہے۔ہم اس پر کچھ نہیں کرتے۔مگر وہ بار بار کہتے تھے، راضی نامہ کر لو۔آخر آپ نے بڑے جوش میں آکر فرمایا۔راضی نامہ کیا ہوتا ہے۔کیا تم چاہتے ہو آنے والی نسلیں یہ خیال کریں کہ ایسا شخص بھی مسیح موعود ہو سکتا ہے، جس نے کرم دین کی طرف سے جھوٹے خط شائع کئے اور بعد میں مقدمہ بننے پر راضی نامہ کر لیا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم راضی نامہ کریں۔آپ کو معلوم نہیں ہے۔خداوند تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت اس مقدمہ کے فیصلہ کی اطلاع دے دی اور آپ کو کیا معلوم ہے۔خدا تو مجھ سے اس طرح باتیں کرتا ہے۔جس طرح میں آپ سے باتیں کرتا ہوں۔پھر میں کیونکر تمہارے کہنے سے خدا کی مرضی کے خلاف راضی نامہ کرلوں۔اس مقدمہ سے تو ایک نشان ظاہر ہو گا۔روایات ۳۵ حضرت سید میر عنایت علی شاہ لدھیانوی میرے چچا عباس علی حضرت صاحب کی خدمت میں آیا کرتے تھے۔ایک دفعہ لدھیانہ کے لوگوں نے میرے چا کو مجبور کیا۔کہ حضرت اقدس کو لدھیانہ میں تشریف لانے کے لئے عرض کی جاوے چنانچہ چچا صاحب اکیلے ہی قادیان آئے اور حضرت صاحب سے درخواست کی لدھیانہ تشریف لے چلیں اس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں نے ایک کشف دیکھا ہے کہ کوئی شہر ہے ہم وہاں گئے ہیں۔وہاں لوگ ہم سے مخالف ہوئے ہیں۔ہم نے ان سے کہا۔آؤ ہم تم کو نماز پڑھا ئیں۔انہوں نے کہا ہم نے نماز پڑھی ہوئی ہے ہم چل پڑے اور پیچھے لوٹ کر دیکھا کہ کوئی ہمارے ساتھ ہے یا 1