سیرت احمد

by Other Authors

Page 38 of 131

سیرت احمد — Page 38

63 62 دیکھنا ۴۵ سال تکالیف آویں گی ( یہ خواب ہو ہو پورا ہوا) تیسرے خواب کی تعبیر :- پرندہ کی شکل میں حضرت ابراہیم کو دیکھنا۔یہ دانہ اٹھا کر چہائے۔میرے والد صاحب اور تایا صاحب ذکر کیا نبی بزرگ ہے۔خدا فرماتا ہے۔ہم انبیاء کو بہشت میں پرندہ کی شکل میں داخل کرتے ہیں۔خواب کے متعلق آپ نے بڑی تفتیش کی۔مویشیوں کے مقدمات میں راستی کرتے تھے کہ ہمارا گاؤں مرزا صاحب کی مفصل حالات دریافت کئے اور قدد رنگ وغیرہ کے متعلق پوچھا ( یہ خواب تعلقہ داری میں تھا۔کچھ عرصہ حضور اپنے والد صاحب کے مختار رہے اور ہمارے ساتھ بھی کئی پیشیوں میں عدالت میں جانا ہوا۔آپ ہمیشہ راستی کا بھی پورا ہو گیا) اکثر دفعہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں آتا۔آپ ٹہلا کرتے مگر پہلو اختیار کرتے خواہ مقدمہ کو کس قدر نقصان پہنچ جاتا۔غرض راستی کو ہاتھ میں قرآن شریف ہو تا تھا۔یا کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے آپ چنے کے دانے بالکل ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔بھی اکثر چبایا کرتے تھے۔کیونکہ مسکین لوگ آجاتے اور اندرون خانہ سے جو کھانا آتا۔وہ آپ مسکینوں کو دے دیتے اور خود دانے چبا کر دن بسر کرتے تھے۔پھر کھانے کو نہ فرماتے تھے۔جب حضور کی دوسری شادی ہوئی۔تو اسی وقت میراثی کا سوال مرزا سلطان احمد صاحب کی بھی شادی ہوئی تھی۔یہاں دستور تھا کہ مرزا صاحبان کے گھر میراثی آکر شادی پر کچھ لیا کرتے مریض کی خبر گیری ایک دفعہ میرے تایا صاحب بیمار تھے ہم نے تھے۔وہ میراثی آیا۔مرزا امام الدین بھی سلطان احمد صاحب کے پاس بیٹھے آکر عرض کی کہ حضور وہاں چل کر مریض کو ہوئے تھے ، ان سے ملا۔اور دعا کی انعام چاہا۔انہوں نے کہا مرزا غلام احمد دیکھ لیں۔ہم سواری کے لئے گھو ڑالائے ہیں۔آپ بے تامل تشریف لے کی بھی شادی ہوئی ہے۔جب تک ان سے انعام نہ لاوے ہم نہ دیں گے۔آئے اور فرمایا۔گھوڑی کی ضرورت نہیں آپ دو کوس پیدل ہمارے گاؤں اور جو وہ دیں گے ہم ان سے دگنا دیں گے۔وہ میراثی قطب الدین نامی گئے۔مریض کو دیکھا اور جاتے ہی السلام علیکم فرمایا۔بیمار کے پاس بیٹھ گئے۔دوائی تجویز فرمائی۔پھر چند دینی باتیں کیں۔دودھ چائے وغیرہ کے لئے بہت کہا۔مگر آپ نے پینا منظور نہ فرمایا۔آخر میں کہا کہ اگر بہت خاطر منظور ہے تو چنے کے دانے لے آؤ۔چنانچہ لائے گئے۔حضور نے یونہی دس پانچ حضرت صاحب کے پاس آیا۔آپ مسجد مبارک سے اتر رہے تھے وہ چڑھ رہا تھا۔زینہ میں السلام علیکم ہوئی میراثی نے دعادی آپ نے فرمایا نماز پڑھا کرو۔اس نے کہا۔ہاں نماز بھی پڑھتے ہیں رزق کا بھی فکر ہے۔آپ نے فرمایا یہاں آجاؤ۔اس نے کہا حضور بال بچہ۔آپ نے فرمایا بال بچہ کو بھی