سیرت احمد

by Other Authors

Page 23 of 131

سیرت احمد — Page 23

33 روایت ۲۱ 32 روایت ۱۹ احمد دھرم کوٹ رندھاوا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں مولوی عابد علی شاہ صاحب کے ساتھ دارالامان آیا۔ہم مسجد جس دن میاں فضل احمد صاحب کا انتقال ہوا۔کسی نے اندر آکر حضرت مبارک میں تھے۔حضرت صاحب تاکی سے نکلے نماز ظہر کے لئے۔السلام مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اطلاع دی۔میں نے اس وقت حضور کے علیکم فرمایا۔اور تشریف فرما ہوئے۔آپ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔نیز چہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔فرمایا۔حضور نے پوچھا۔تمہارا بال بچہ راضی ہے۔بڑی محبت سے حضور نے کلام اس نے ہمیشہ اطاعت ہی کی اور میری بیماری کے وقت میں بھی اکثر آکر فرمایا۔خدمت کرتا رہا۔مگر چونکہ بیعت نہ کی تھی، اس لئے حضور نے جنازہ نہ پڑھایا اور نہ کسی احمدی کو جنازہ میں شامل ہونے کا حکم دیا۔روایت ۲۰ حافظ حامد علی صاحب حضرت صاحب نے فرمایا ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اور وہ بادشاہ مجھے دکھائے گئے۔" ایک دن حضور نے فرمایا جو لوگ تم میں سے ایک پیسہ دیتے ہیں عنقریب ایک وقت آوے گا کہ اس پیسہ کے برابر سونے کا پہاڑ فضیلت نہ رکھے گا۔اور اس نظارہ کو تم میں سے کئی ایک دیکھیں گے۔ایک دن مرزا سلطان احمد صاحب نے مسماۃ بھاگ بھری کو کہا کہ جاؤ حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔ان کی خبر لاؤ۔جس وقت وہ آئی میں روایت ۲۲ موجود تھا۔اس نے عرض کی کہ میاں سلطان احمد صاحب نے حضور کی مزاج پرسی کے لئے بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا۔کون سلطان احمد۔اس نے عرض مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری حضرت صاحب میر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ایک دوست نے کی حضور کا بیٹا۔آپ نے فرمایا ہمارا بیٹا کہو۔خادم یا دوست ہمارا تو یہ حامد علی سوال کیا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ایسی باتیں بھی اللہ ہے جو ہر وقت حاضر خدمت رہتا ہے۔نے بتائی تھیں جن کی عام لوگوں میں پہنچانے کی ممانعت تھی۔امام جوزی یہ روایت ہے۔آپ نے فرمایا۔قرآن میں آتا ہے بلغ مَا اُنْزِل الیک اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کسی طرف وحی ނ i