سیرت احمد — Page 9
5 4 ہوتی تھی۔حضور نے روزے رکھنے شروع کئے اور رات کو مسجد کے درمیانی حصہ میں حضور دری پر سو جایا کرتے تھے۔چار پائی پر نہ سوتے تھے۔غرض گیارہ دن حضور نے دعا کی۔اور بہت دعا کی۔اور آپ نے ڈپٹی صاحب کو بہت دفعہ نصیحت فرمائی کہ حقہ چھوڑ دو۔کم کرتے کرتے۔لوگوں سے کم ملا کرو۔دن رات میں کم از کم پانچ سو دفعه استغفار پانچ سو دفعه درود شریف پڑھا کرو۔غرض گیارہ دن کے بعد الہام ہوا اگر تو بہ نصوحی کرے گا۔لڑکا دے دیں گے"۔آپ نے اس کو فرمایا۔یہ الہام ہوا ہے۔تو بہ کے ساتھ مشروط ہے۔جس رات یہ الہام ہوا۔اسی رات میں نے خواب دیکھا اور صبح وہ خواب حضرت صاحب کو سنایا۔وہ یہ کہ میں دیکھتا ہوں کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں لڑکا مردہ پیدا ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں میری بیوی بیمار ہے۔سخت تکلیف ہے۔حضرت صاحب فورا چلے آویں۔توقف نہ ہو۔ہرگز ہر گز دیر نہ کریں۔حضرت صاحب نے خواب سنا اور خاموش رہے۔چنانچہ بارہ بجے دن کے جب ڈاک آئی۔حضرت صاحب کے پاس حضرت میر ناصر نواب صاحب کا خط آیا۔آپ نے وہ خط دیکھا۔اور مجھے حضور نے ساتھ لیا۔جہاں آج کل نواب صاحب کی حویلی ہے۔اس جگہ گھوڑوں اور گائے بھینسوں کا طویلہ تھا۔وہاں مجھے لے گئے۔اکیلے ہو کر وہ خط دکھایا اور فرمایا دیکھو تمہارے خواب کا واقعہ سارے کا سارا خط میں درج ہے۔فور آ جاؤ۔یکہ کرایہ کرو اور چلو۔اور حضور نے ڈیٹی صاحب کو بلوا کر رخصت کر دیا اور نصیحت فرما دی اگر تو بہ کرو گے۔خد الڑ کا دے دے گا۔چنانچہ ڈپٹی صاحب اپنے گھر کو چلے گئے۔ہم حضرت صاحب اور میں لودھیانہ کو چلے گئے۔اور نو بجے رات کے لودھیا نہ پہنچے اور وہاں ضروری انتظام کیا گیا۔ایک سال بعد ڈپٹی صاحب کا خط آیا کہ حضرت میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔اور سات روز کا ہو کر آج مر گیا۔ہزاروں روپیہ لاگیوں وغیرہ کو دیا گیا برباد ہو گیا۔عقیقہ نہ کیا۔لڑکا مر گیا۔میں روتا ہوں اور ساتھ ہی دو بکرے کراکر گوشت تقسیم کر رہا ہوں۔حضرت صاحب نے جواب میں تحریر فرمایا۔اس میں کچھ حکمت الہی تھی۔گھبراؤ نہیں۔خدا اور لڑکا دے دے گا۔چنانچہ سال بعد ڈپٹی صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔اور حضور کو اطلاع ملی۔فالحمد للہ علی ذالک۔حفرات حافظ محمد ابراہیم صاحب حضرت مسیح موعود مسجد مبارک کی چھت پر تھے۔ایک شخص نے عرض کیا۔حضور سنا ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں کے کندھوں پر نازل ہونگے۔وہ فرشتے کہاں ہیں۔آپ نے فرمایا دو فرشتوں سے میرا کیا بنتا ہے۔میرے ساتھ تو لاکھوں فرشتے ہیں جو دنیا میں تحریک کر کر کے مخلوق کو یہاں لاتے ہیں۔یہ بیان حدیث شریف کے مطابق ہے۔جس میں لکھا ہے کہ جس سے خدا محبت رکھتا ہے۔اس کے متعلق آسمان اور زمین کے فرشتوں کو حکم ہو تا ہے کہ اس سے محبت رکھیں۔