سیرت احمد

by Other Authors

Page 82 of 131

سیرت احمد — Page 82

151 150 دی۔حضرت اقدس باہر تشریف لائے۔بہت سے دوست بھی آموجود ہوئے۔آپ نے پوچھا کیا ہے۔میں نے کہا حضور کار بنکل نکل آیا ہے۔موعود کے مکان پاس کھڑا تھا کہ ایک انگریز شاید کوئی پولیس آفیسر تھا۔آیا اور مجھ سے پوچھا۔مرزا صاحب کہاں ہیں۔میں نے کہا آپ ٹھہریں میں آپ نے دیکھا اور کہا کون کہتا ہے۔میں نے کہا ڈاکٹر کہتے ہیں۔فرمایا یہ کیا ابھی ان کو اطلاع دیتا ہوں۔میں نے اطلاع دی۔آپ تشریف لائے۔دو کرسیاں بچھائی گئیں۔ایک پر انگریز بیٹھ گیا۔ایک پر آپ۔اس انگریز نے جانتے ہیں نہیں نہیں۔کیوں مولوی صاحب کار بنکل ہے۔نورالدین صاحب خاموش رہے آپ نے فرمایا لائی کو ر آرسنگ۔لائی کو راسٹر کینا ملا کر کہا۔میں نے کچھ پوچھنا ہے۔آپ نے فرمایا پوچھ لو۔اس نے ایک کتاب استعمال کرو۔میں دعا کروں گا۔میں نے آٹھ دن استعمال کیا۔خدا کے فضل نکالی۔اور ورق گردانی شروع کر دی۔تھوڑی دیر کے بعد حیران سا ہو کر سے بالکل آرام ہو گیا۔اور یہ مزید برآں شفقت تھی کہ نمازوں میں جب بولا۔جو پوچھنا تھا وہ بھول گیا ہوں۔اور جو نوٹ کیا تھا۔وہ ملتا نہیں۔آپ مسجد آتے تو بعض اوقات ہنس کر فرماتے کہ خلیفہ نورالدین کہتے ہیں نے فرمایا اچھا پھر پوچھ لینا۔جب یاد آئے۔پھر وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بٹالہ کار بنکل نکل آیا ہے۔یہ حضور کا اعجاز تھا کہ ایسی مہلک امراض سے بذریعہ دعا نجات ملی۔روایت ۶۵ حافظ احمد اللہ صاحب مهاجر کی طرف چلا گیا۔میرے بھائی مرزا نظام الدین صاحب نے ذکر کیا کہ جن دنوں حضرت صاحب سیالکوٹ میں نوکر تھے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔مجھے حضرت صاحب پڑھایا بھی کرتے تھے۔آپ وہاں بھیم سین وکیل کو جو ہندو تھا۔قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے۔اور اس نے تقریباً ۱۴ پارہ تک قرآن ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا سود اور سئور حضرت صاحب سے پڑھا تھا۔ایک دن حضرت صاحب نے صبح اٹھ کر بھیم کے لفظ کو اگر ادا کریں۔آواز ملتی جلتی ہے۔اس لئے مجھے تو ان کے خواص بھی ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔میں سود سٹور کو قریب قریب ہی سمجھتا ہوں۔روایات ۶۶ سین کو مخاطب کر کے یہ خواب سنایا کہ آج رات میں نے رسول اکرم کو خواب میں دیکھا۔آپ مجھ کو بارگاہ ایزدی میں لے گئے۔اور وہاں سے مجھے ایک چیز ملی۔جس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ سارے جہان کو تقسیم کر دو۔یہ میری خواب ہے اس کو لکھ رکھیو۔مجھے ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا۔جب میں سخت بیمار ہو گیا۔میرا بیٹا حضرت مرزا غلام اللہ صاحب انصار ساکن قادیان میرے بھائی مرزا نظام الدین نے ذکر کیا کہ ایک دن میں حضرت مسیح صاحب کی خدمت میں آیا اور بیماری کا حال عرض کیا۔آپ نے فرمایا۔