سیرت احمد — Page 8
3۔2 لکھا خدا اگر راضی ہو۔اور مجھے اس بڑھاپے میں شادی سے کچھ فائدہ ہو تو کروں ورنہ کیا ضرورت ہے۔اس خیال سے حضرت صاحب سے خط و کتابت کی اور اپنا حال لکھا کہ اگر آپ خدا سے دریافت فرما دیں کہ یہ فرما دیں شادی مبارک ہے تو میں شادی کرلوں۔حضرت صاحب نے جواب میں کہ کہ عام طور پر دعا تو ہر ایک سائل کے لئے کر دی جاتی ہے لیکن اگر کوئی خاص کرا دے۔تو جب تک اس کا کچھ تعلق اور بوجھ ہمارے ذمہ نہ ہو۔ہم دعا نہیں کر سکتے۔ہاں اگر آپ کو ضرورت ہے۔آپ قادیان آجا ئیں پھر ہم پر بوجھ پڑ جائے گا۔ہم دعا کر دیں گے۔چنانچہ ڈپٹی صاحب معہ چند آدمیوں کے یہاں آئے اور حضرت صاحب نے ان کو گول کمرہ میں جگہ دی اور وہ وہاں اترے۔خوب کھانے ان کے لئے حضرت صاحب کے حکم سے پکتے تھے اور وہ کھاتے تھے حقہ نوشی بھی کرتے تھے۔ایک دن شام کو عشاء کے وقت حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔حامد علی ہم آج ان کے لئے دعا کریں گے۔میں نے کہا بہت خوب۔حضور میرے فلاں کام کے لئے بھی دعا فرما دیں۔آپ نے فرمایا " بہت اچھا تم خود بھی دعا کرنا استخارہ بھی کرنا۔ہم بھی دعا کریں گے "۔اور اندر تشریف لے گئے۔صبح کی نماز کے وقت باہر تشریف لائے۔پوچھا کیا وہ سو رہے ہیں۔میں نے عرض کیا جی ہاں۔فرمایا ”اچھا سونے دو۔غرض میں نے اور حضرت صاحب دونوں نے نماز ادا کی۔حضور نے فرمایا۔میں اندر سے ہو کر اندر کی گلی سے باہر بوہڑ کے نیچے آتا ہوں۔تم باہر کے راستے سے آؤ۔غرض ہم دونوں بوہڑ کے نیچے جمع ہو گئے۔آپ نے فرمایا۔ہم نے رات ڈپٹی صاحب کے واسطے بہت دعا کی۔دعا تو ہم نے تمہارے لئے بھی کی مگر تمہارے لئے ذرہ کم وقت خرچ کیا۔سناؤ تمہیں کچھ خواب آیا۔مجھ کو ایک خواب آیا تھا۔میں نے سنایا۔فرمایا ٹھیک ہے۔یہ اسی امر کے متعلق ہے۔فرمانے لگے۔ڈپٹی صاحب کے لئے بہت دعا کی گئی۔مگر پتہ نہیں وہ کہاں چلی گئی۔اور تمہارے لئے جو دعا کی اس کا تو نتیجہ معلوم ہو گیا۔یہ یاد رکھو کہ ان بڑے آدمیوں نے سینکڑوں خون کئے ہوتے اور صدہا کی گلو تراشیاں کی ہوتی ہیں ان کے لئے دعا آسمان پر نہیں جاتی۔یونہی دھکا کھاتی ہے۔اور غریبوں کا حساب چونکہ تھوڑا ہوتا ہے اس لئے ان کے لئے دعا جلد قبول ہو جاتی ہے۔غریب ایماندار دولت مند ایمانداروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔غرضیکہ وہ تین چار روز ٹھہرے حضور دعا کرتے رہے۔کوئی الہام نہ ہوا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔دعا بہت کی گئی کوئی الہام نہیں ہوا۔آپ استخارہ کر کے نکاح کر لیں۔خدا بہتر کر دے گا۔چنانچہ ڈپٹی صاحب نے نکاح کر لیا۔اور کچھ عرصہ کے بعد پھر خطوط لکھنے شروع کئے کہ حضور دعا کریں خدا ایک لڑکا عطا فرما دے۔حضرت صاحب نے پھر لکھا کہ جب تک ہم پر بوجھ نہ پڑے خاص دعا نہیں ہو سکتی۔چنانچہ وہ پورے سال کے بعد پھر آگئے اور بڑے ٹھاٹھ کے ساتھ کئی آدمیوں کے ساتھ۔غرضیکہ پہلی طرح ان کی بڑی خاطر شروع ہوئی اور حضرت صاحب نے ان کے لئے دعائوں کرنی شروع کی کہ مسجد مبارک کا وہ حصہ جو پہلے بنا ہوا تھا اس کے تین درجے تھے۔سب سے اگلا درجہ نماز کے لئے اور درمیانی حصہ میں حضور نے چلہ شروع کیا۔تیسرے درجہ میں زینہ کے پاس میری چارپائی