سیرت احمد — Page 73
133 132 لباس -:- حضرت اقدس عموماً لباس میں صفائی کے ساتھ سادگی کو پسند فرماتے تھے۔مزاج میں تکلف نہ تھا۔اگر رو مال ملنے میں دیر ہوتی۔تو پگڑی کے شملہ سے ہی منہ پونچھ لیا کرتے تھے۔پگڑی کے اندر ٹوپی ہمیشہ رکھا کرتے تھے۔پگڑی سفید ہوتی تھی۔کپڑوں کے متعلق کوئی خاص طرز نہ تھی۔میں نے اپنی بیوی سے سنا ہے کہ حضرت ام المومنین جیسے کپڑے نکال کر دے دیتیں وہی پہن لیتے تھے۔البتہ ایک موقعہ پر جبکہ امریکہ سے ایک امریکن مرد اور عورت آپ کی زیارت کو آئے تو حضور نے خاص اہتمام سے لمبی قبا پہنی اور کمر پر پٹکا باندھا۔جو نہ کے متعلق بھی سادگی مد نظر تھی۔عموماً جوتے کی ایڑی بیٹھی رہتی تھی۔جو تادیسی ہی پہنتے تھے۔ایک مرتبہ کسی دوست نے انگریزی جو تا لاکر پیش کر دیا۔آپ نے دایاں بایاں پاؤں پہچاننے کے لئے نشان کرلئے۔لیکن دیر نہ ہونے پائی تھی کہ آپ نے اس کا پہننا ترک کر دیا۔اور فرمایا۔اس کے پہنے میں وقت خرچ ہوتا ہے۔ہمیں ان تکلفات سے کیا غرض۔ہمار ا وقت قیمتی ہے۔اس طرح انگریزی جو تہ کا پہننا ترک کر دیا۔اور وہی سادہ دیہی جو نہ پہنتے رہے۔حضور کو خوشبو کا شوق تھا۔اور کپڑوں کو ہمیشہ خوشبو لگی رہتی تھی گرم کپڑے آپ ہمیشہ پہنتے تھے۔کبھی کبھی پوستین بھی پہنا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی دوست نے گھڑی پیش کی۔آپ نے اس کو رومال میں لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا اور فرمایا۔یہ خدا نے ہمارے لئے بنائی ہے تاکہ نماز کا وقت معلوم کریں اور ہر قسم کے موسم میں معلوم ہو جایا کرے۔حضرت صاحب کو خوراک میں سادگی مد نظر تھی۔آپ گڑ کے پکے چاول زیادہ خوشی سے کھایا کرتے تھے۔اور ساگ کو بھی پسند فرماتے تھے۔میری بیوی نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ کوئی دیہاتی عورت ساگ لائی ام المومنین نے ناپسند فرمایا۔لیکن حضرت صاحب نے فرمایا۔آپ رکھ لیجئے۔پکوائیے ہم کھا ئیں گے۔اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ایک یہ کہ حضور نے اس کی دل شکنی پسند نہ فرمائی۔دوسرے ثابت ہوا کہ حضور ساگ بھی پسند فرماتے روایات ۶۱ حضرت منشی اروڑے خان صاحب ایک دن کسی نے ایمان کی نسبت سوال کیا۔آپ نے فرمایا ایمان دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک موٹا ایک باریک (۱) موٹا ایمان وہ ہے کہ نبی کی شریعت کی پیروی کی جاوے۔(۳) بار یک ایمان وہ ہے کہ دلق پہنکر نبی یا پیر کے ساتھ طرح طرح کی صعوبتیں اس کے ساتھ اٹھائے اور ہر عسر یسر میں ساتھ دے۔یہ باریک ایمان ہے۔ایک دن فرمایا لوگ دعا کے لئے کہتے ہیں۔منشی صاحب دعا در اصل دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک تو عام دعا ہے۔لوگ کہتے ہیں ہم کرتے ہیں۔بلکہ بوجہ ہمدردی ہم سب کے لئے دعا کرتے ہیں۔دوسری دعادہ ہے جو خاص ہے۔وہ دعا جب تک نہیں ہوتی جب تک کوئی شخص ہمارے دل میں درد