سیرت احمد — Page 58
103 102 عطا فرمایا۔حضرت صاحب ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد باغ میں رونق افروز تھے۔ایک خیمہ باہر مہمانوں کے لئے نصب تھا۔اور اس میں مولوی عبدا میں پاس ہی مقیم تھی۔اور انہوں نے رونا شروع کیا۔والدہ شادی خاں نے اس کو چپ کرانے کے لئے کہا۔اچھا ہم سیالکوٹ چلتے ہیں۔کیونکہ زلزلہ کا خطرہ ہے۔اور حضرت صاحب کے مکانات پختہ ہیں۔پیر منظور محمد صاحب نے والدہ شادی خاں کو دو تین دفعہ کہا۔کہ حضرت صاحب کے حکم کے تحت صاحب۔پیر منظور محمد صاحب۔میاں شادی خاں صاحب اور عاجز رہا کام کرو ورنہ پچھتاؤ گے ، اس کے رونے کی آواز حضرت اقدس کو پہنچ گئی۔کرتے تھے۔سید امیر علی شاہ کورٹ انسکپٹر صاحب ساکن سیالکوٹ آئے۔آخر والده شادی خاں صاحب نے حضرت صاحب کے حضور جا کر ہاتھ درختوں کے نیچے ہی رات کو سوئے تھے۔رات کو جھکڑ کے چلنے کی وجہ سے جوڑے اور کہا۔ہم سے خطا ہوئی۔ہم نادان ہیں ہمیں معافی دی جائے۔ان کو بہت تکلیف ہوئی۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے اس کا ذکر حضور نے فرمایا۔ہم نے تم کو اپنے مکانوں میں رہنے کو کہا تھا۔ہمارے مکان حضرت صاحب سے کیا۔حضور نے مجھے بلوا کر فرمایا کہ میاں مهدی حسین ہم بفضل خدا محفوظ رہیں گے۔اگر ہمارے مکان پر بھی زلزلے آئے۔تو نے یہ خیمہ اپنے مہمانوں کے لئے لگایا تھا۔ہمارے سید امیر علی شاہ کو رات دوسروں کا کیا حال ہو گا۔اچھا اب ہم تم کو وہاں جانے کا حکم نہیں دیتے۔تکلیف ہوئی۔اور کسی نے ان کی خبر بھی نہیں لی۔میں نے عرض کیا کہ حضور اور فرمایا۔دو چھولداریاں ہیں جو کہ مشرقی جانب نصب ہیں۔ان میں تم اور مجھے ان کی تکلیف کی خبر نہیں۔آدھی رات کے قریب جھکڑ آیا تھا۔میں مهدی حسین رہو۔ہم حضور کے حکم کے مطابق ان چھولداریوں میں چلے سوتا تھا۔میں حضور کے حکم کے مطابق یہاں آیا ہوں۔حضور حکم دیں وہاں گئے۔اور حضرت کے قیام باغ تک وہاں مقیم رہے۔چلا جاؤں گا خواہ حضور کسی درخت کے نیچے رہنے کا حکم فرما دیں یا حد آبادی ایک دن مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے حضرت صاحب کی کے اندر۔حضور نے فرمایا۔ہاں تم گاؤں میں چلے جاؤ۔اور میرے بعد اور خدمت میں عرض کیا کہ میں نے مولوی نورالدین صاحب سے لے کر شہد احباب سے فرمایا کہ لو یہ تو جلدی ہی مان گئے۔اسکے بعد میاں شادی خاں کو کھایا وہ بہت عمدہ اور لذیذ تھا حضرت صاحب نے فرمایا۔عسل اعلیٰ صفتیں بلایا اور متذکرہ بالا تکلیف کا ذکر کیا۔میاں شادی خان نے عرض کی کہ جہاں اور خوبیاں رکھتا ہے۔اور میں اس کا ہمیشہ استعمال کرتا ہوں۔اور اس کی حضور حکم دیں وہاں جا سکتا ہوں۔حضور نے فرمایا۔تم اندر گاؤں کے خاص صفت بتاتا ہوں۔میں ایک مرتبہ کھانا کم کرتا کرتا خشک روٹی کے ہمارے مکانات میں چلے جاؤ۔میاں شادی خاں نے اسی وقت اپنے بچوں کو چوتھے حصہ پر پہنچ گیا۔حتی کہ چھ ماہ تک یہی عمل رہا۔مگر اس وقت شہد کا لے کر خیمہ سے اسباب اٹھانا شروع کر دیا۔اس پر میاں شادی خاں صاحب شربت پیا کرتا تھا۔اور شربت پینے سے میرے کل اعضا کو بہت طاقت اور کی بیوی کو رنج پیدا ہوا۔کیونکہ ان کی بیٹی مولوی عبد الکریم صاحب کے گھر