سیرت احمد — Page 57
| 101 100 ایک دن فرمایا۔میں نے خواب دیکھا۔ہمارا جو باہر کا مکان ہے اس کے دجالیت نہ رہے گا۔اور اثر مسیح باقی رہے گا۔اگر کوئی اعتراض کرے کہ کرنے سے بند ہو جائیں گے۔ہاتھوں سے مراد کہ ان کی قلم ہمارے مقابلہ آج کل عیسائیوں کے بہت اولاد ہے۔سو اس کا جواب یہی ہے کہ ان کے جو میں کٹ جائے گی۔پیروں سے مراد کہ وہ بھاگ نہ سکیں گے۔چمڑا سے مراد مکرو فریب ہیں سب جاتے رہیں گے۔کہ ان کا پردہ فاش ہو جائے گا۔ایک دن حضور نے فرمایا کہ دجال کو جو کانا کہا گیا ہے۔سو اس سے یہ مراد ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو آنکھیں تھیں۔ایک حضرت آگے دو موٹے تازے گھوڑے باندھے ہوئے ہیں۔ایک گھوڑے پر اسحاق " جن کی اولاد میں سے سب انبیاء بنی اسرائیل ہیں اور ایک آنکھ حضرت رسول کریم ( ا ) سوار ہیں۔ایک پر میں سوار ہوں۔ہم حضرت اسماعیل تھے۔جن کی اولاد ہمارے نبی ا ہیں۔سو د جال نے دونوں بہادروں کی طرح بڑی تیز رفتار سے چلتے ہیں۔اتنے میں میری آنکھ ایک آنکھ سے کام لیا۔یعنی بنی اسرائیل کے نبیوں کو تو کچھ تھوڑا بہت مانا۔کھل گئی۔مگر دوسری آنکھ یعنی ہمارے نبی کریم ﷺ کو نہ مانا۔اس واسطے کانا ہے۔ایک دن حضور نے فرمایا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گھر سے اپنے باغ کی طرف جا رہا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لشکر عظیم الشان روایات ۴۶۔میرمهدی حسین صاحب ایک دفعہ لنگر خانہ میں خرچ کی کچھ دقت تھی۔حضور کو اس کی تشویش سواروں کا میری طرف چلا آتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میرے مقابلہ تھی۔ایک نابینا ایبٹ آباد کی طرف سے آیا۔اور وہ دو چار دن رہ کر جانے کے لئے آیا ہے۔اور میں ان کی طرف بہادروں کی طرح جاتا ہوں۔مجھے لگا۔تو اس نے زاد راہ کے لئے حضور سے مسجد میں سوال کیا۔حضور اندر ان کا ذرہ بھی خوف نہیں۔میں بہت دلیر ہوں۔اور پھر کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تشریف لے گئے۔اور اس کو اندر سے دویا تین روپے لا کر دئیے۔اس نے لشکر ہمارے باغ میں چلا گیا۔مجھے خوف ہوا کہ شاید باغ کا نقصان کریں گے۔کہا۔حضور پیدل نہیں چل سکتا۔اس لئے یکہ وغیرہ کی ضرورت پڑے گی۔میں ان کے پیچھے باغ میں گیا۔تو دیکھتا ہوں کہ وہ سب ہلاک ہوئے پڑے ہیں ریل کا بھی کرا یہ چاہئے۔یہ کافی نہیں ہے۔حضور نے فرمایا۔حافظ جی اور ان کا سر الگ ہے۔ہاتھ الگ اور پیر بھی الگ ہیں۔بدن کا چمڑا اترا ہوا تمہیں کسی کے گھر کی کیا خبر ہے۔یہ فرما کر ٹھہر گئے۔پھر دوبارہ اندر تشریف ہے۔میں دیکھ کر حیران ہوا کہ الہی تو بڑا قادر ہے۔یہ لشکر تو نے عجیب طرح لے گئے۔اور اس کو ایک روپیہ اور لا کر دیا۔معلوم ہو تا تھا کہ اس وقت پر ہلاک کیا۔پھر میں بیدار ہو گیا۔تعبیر یہ ہے۔سر کٹنے سے مراد کہ وہ کلام خرچ کی بہت تکلیف تھی۔اس پر بھی آپ نے سائل کو طاقت سے بڑھ کر