سیرت احمد

by Other Authors

Page 55 of 131

سیرت احمد — Page 55

97 96 سے تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ مہمان کثرت سے آگئے لنگر خانہ بھی نہیں تھا۔تمام ملازمین لوگوں کو کھانا کھلاتے کھلاتے حضرت صاحب کو کھانا کھلانا بھول گئے۔بارہ بجے کے قریب جب دن ڈھلنے کو آیا تو حامد علی نے آکر حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور کھانا تو ختم ہو گیا اور میرے اب یاد آیا کہ حضور نے کھانا تناول نہیں فرمایا۔اگر حضور حکم دیں تو کھانا دوبارہ تیار کیا جائے۔فرمایا کوئی ضرورت نہیں ہے۔ڈبل روٹی اور دودھ لے آؤ۔میں وہی بھگو کر کھالوں گا۔فور آحامد علی ڈبل روٹی اور دودھ کے لئے گیا۔ڈبل روٹی تو مل گئی مگر دودھ نہ ملا۔حامد علی نے عرض کیا کہ حضور ڈبل روٹی تومل گئی مگر دودھ کہیں نہیں ملتا۔فرمایا پانی میں بھگو کر کھالیں گے کوئی ہرج نہیں ہے۔اور حضور نے اسی طرح کچھ ڈبل روٹی پانی میں بھگو کر کھائی۔اور دن بسر کر دیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔گورداسپور کے کرم دین والے مقدمہ کے دوران میں ہم سب خدام حضور کے ساتھ کچھری چلے گئے۔حضور نے فرمایا ہمارا کھانا کھری ہی آجائے۔تو جس وقت ہم پہنچے ، اسی وقت حضور کو حاکم نے اندر طلب کیا۔پیچھے سے کھانا آ گیا۔سب لوگوں نے کھانا کھایا۔حضور کا کھانا باقی رکھ چھوڑا۔بارہ بجے کے قریب لاہور کی جماعت آگئی۔جو کھانا حضور کے لئے رکھا تھا۔وہ ان لوگوں نے کھا لیا۔حضور والا دو بجے کے قریب اندر سے آئے۔اور لوگوں نے کہا حضور کا کھانا لا ہور کی جماعت نے کھالیا۔اگر حکم ہو تو اور کھانا تیار کر لا ئیں۔فرمایا کوئی ضرورت نہیں اب شام میں تھوڑی دیر ہے۔شام کو ہی کھائیں گے۔اب تھوڑا سا مصری کا شربت پی لوں گا۔چنانچہ حضور نے شربت پیا اور اسی طرح دن بسر کر دیا۔روایات ۴۵۔حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ ۱۹۰۰ء کے رمضان شریف کے پہلے جمعہ میں میں نے مسجد اقصیٰ میں حضرت صاحب کی بیعت کی۔بیعت لیتے وقت حضور نے میری طرف بہت توجہ سے مگر خلاف عادت دیکھا۔آپ کی اس توجہ سے میری زبان پر آیت نَفَخَتُ فِيهِ مِنْ رُوحِى تقریباً دو تین گھنٹہ جاری رہا۔میں لنگر خانہ سے روٹی نہ کھایا کرتا تھا۔اور اپنے پاس سے اپنا سامان فروخت کر کے کھاتا رہا۔جب وہ ختم ہو گیا۔میر سعید عبد اللہ عرب کے پاس سوا آنہ روز پر ملازم رہا۔اس نے کچھ عرصہ بعد جواب دے دیا۔پھر میں شیخ یعقوب علی صاحب کے پاس ڈیڑھ روپے ماہوار اور روٹی پر ملازم رہا۔اس شرط پر کہ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد ملازم نہیں۔اور نماز اور درس کے وقت ملازم نہیں۔وہ حیران رہے کہ اس ملازم کو کس طرح ہٹاؤں۔قدرت ایزدی میں بیمار ہو گیا۔انہوں نے ہٹا دیا۔میں نے نواب صاحب سے پانچ روپیہ قرض لے کر دودھ کی دوکان شروع کر دی۔لوگوں نے حضور سے کہدیا کہ غلام احمد نے دودھ کی دوکان نکالی ہے۔حضور نے فرمایا۔خدا اس کو بڑی برکتیں دے گا۔ایک دن میں نے عرض کیا۔حضور میں نے دودھ کی دوکان کی ہے۔اور میں حضور کے لئے ایک میر پختہ دودھ روز بھیجا کروں گا۔آپ نے فرمایا۔