سیرت احمد — Page 50
87 86 ہوئے۔اس وقت غیر احمدی لوگ ارد گرد کے بہت جمع ہو گئے اور کھانا دئے۔رات کو میں نے اس شخص کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے سامنے بیٹھا ہے اور ایک ایک کر کے گن گن کر روپیہ مجھے دیتا ہے۔میں نے دامن کھانے بیٹھ گئے۔میر ناصر نواب صاحب نے حضرت صاحب سے عرض کی آگے کر رکھا ہے۔میں گن گن کر لیتا ہوں۔معلوم ہو اخدا نے اس کی نذر کہ کھانا احمدیوں کی تعداد کے اندازہ کا خیال رکھ کر پکایا گیا ہے۔یہ غیر احمدی کو قبول فرمالیا اور یہ خواب اس کی سند تھی۔روایت ۳۹۔شیخ امام بخش صاحب شاہجہانپوری معرفت حافظ سخاوت علی صاحب شامل ہوتے ہیں ہماری رائے ہے کہ ان کو منع کر دیا جاوے۔آپ نے فرمایا ان کا بھی وہ ہی رب ہے جو احمدیوں کا رب ہے۔کھانے سے منع نہ کرنا چاہئے۔روایات ۴۱۔حضرت صاحب معہ خدام کے گول کمرہ میں کھانا کھا رہے تھے۔ایک حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری آدمی درمیان میں ایسا تھا کہ اس کے کپڑے بالکل میلے اور پھٹے ہوئے تھے۔اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رَسالہ۔آپ نے فرمایا۔جو ترجمہ اس کا اسے ایک امیر آدمی یعنی وجیہہ اور خوش پوش صاحب نے ذرہ کہنی سے دبایا عام مفسر کرتے رہے ہیں۔اس سے انبیاء کی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔میں کہ پیچھے رہو پھر کھا لینا۔حضرت صاحب کی نظر پڑ گئی اور آپ نے کھڑے ہو الگ معنے بتاتا ہوں، وہ بھی لطیف ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی کر تقریر فرمائی کہ ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے۔اور ہر نبی کی جماعت رسالت جیسی نعمت کو کن اہل دل لوگوں میں قبولیت کے لئے جگہ دیوے۔غرباء سے ترقی کرتی رہی ہے۔یہ لحاظ رکھنا چاہئے۔اگر ہمارے کسی ذی ایک دن حضور گول کمرہ میں تشریف فرما تھے۔تقریباً ہمیں یا پچیس آدمی مقدرت دوست کو کوئی غریب برا معلوم ہو۔اس سے نفرت آوے۔تو اس وہاں موجود تھے۔حضور کچھ تقریر فرما رہے تھے کہ ایک فقیر آیا۔اور زور کو چاہئے کہ خود الگ ہو جائے مگر کسی غریب کو تکلیف نہ دے۔یہ مناسب سے سوال کیا۔مجھے ناگوار معلوم ہوا کہ حضور کی آواز میں مخل ہوتا ہے۔میں نے دروازہ بند کر دیا۔حضور کی نظر پڑ گئی۔آپ نے تقریر بند کر کے مجھے نہیں ہے۔روایت ۴۰ میر مهدی حسین صاحب ایک دن کسی تقریب یا جلسہ پر بہت سے دوست کھانے کے لئے جمع 1