سیرت احمد — Page 48
83 82۔نہیں؟ تو نظر آیا کہ میر صاحب اس حالت میں یعنی آپ میرے ساتھ ہیں۔کردا ئیں۔چنانچہ حضرت صاحب سے عرض کی گئی۔آپ نے دعوت قبول آپ نے فرمایا دیکھنا میر صاحب کہیں کشفی شہر آپ کا لدھیانہ ہی نہ ہو۔فرمائی اور جب کھانے کا وقت آیا۔تب حضور معہ اپنے احباب کے منشی حضور نے چلنے کا وعدہ فرمایا اور فرمایا مکان (میری رہائیش کے لئے) وسیع رحیم بخش کے مکان پر تشریف لے گئے۔چنانچہ وہاں ایک وسیع کمرہ میں تجویز کرنا۔جس میں الگ الگ کمرے ہوں۔اور جس میں سب ضروریات حضرت صاحب اور ان کے احباب کو جو ساتھ تھے۔بٹھایا گیا۔کچھ دیر کے بعد صاحب مکان نے عرض کی کھانا تیار ہے۔دوسرے کمرے میں چل کر مہیا ہوں۔چنانچہ حضور وقت موعودہ پر لدھیانہ تشریف لائے۔ایک کثیر انبوہ شہر کے عمائید اور سر بر آوردہ لوگوں کا استقبال کے لئے کھانا کھا لیں۔اسی کمرہ میں حضور تشریف لے گئے۔کمرہ چھوٹا تھا آدمی سٹیشن پر گیا۔مگر سوائے میر عباس علی صاحب کے کوئی حضور کا مینی واقف نہ بہت تھے۔جگہ بہت تھوڑی تھی وقت سے کھانا کھایا گیا۔جب کھانے سے تھا۔چنانچہ وہ سب لوگ آگے کی گاڑیوں میں تلاش کرتے تھے۔اور حضور فراغت ہوئی۔تب ایک آدمی مولوی عبد العزیز کے پاس سے آیا اور منشی پچھلی گاڑیوں سے اتر کر تمام لوگوں میں سے ہو کر باہر تشریف لے آئے۔احمد جان سے کہا۔مولوی صاحب کہتے ہیں۔مرزا صاحب قادیان والوں کو جب لوگوں نے سب اگلی پچھلی گاڑیاں دیکھ لیں اور حضور کو نہ پایا۔تو مایوس کہہ دو۔یا تو ہم سے بحث کر لیں یا کو توالی چلیں۔منشی احمد جان نے کہا۔ان کو کہہ دو۔اگر کوئی بات کرنی ہے تو محلہ صوفیاں میں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے ہیں آجا ئیں۔حضرت صاحب اس جگہ سے اٹھ کر بڑے کمرہ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور لوگوں نے کہا۔ہم شکوک رفع کرنے کے لئے آئے ہیں۔لوگوں نے شکوک بیان کئے۔حضور نے ایک مدلل تقریر فرمائی۔وہ لوگ مخالفت پر اڑے رہے۔صاحب مکان نے عرض کی کہ میں حضور کو تکلیف دینا نہیں چاہتا جو اب معقول دئے جا صاحب سے کہا کہ آپ کو میری گوٹھی لے چلو۔چچا صاحب نے انکار کیا۔چکے ہیں۔اب اگر یہ ضد کریں تو کرنے دو۔حضور جائے قیام پر تشریف لے ہو کر باہر آگئے۔حضرت صاحب باہر ٹھہر گئے۔آپ کے ساتھ حافظ حامد علی صاحب۔میاں جی جان محمد اور ملاو امل تھے ، میں باہر کی طرف نکلا۔آپ کو دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا۔یہ نورانی بشرہ اسی پاک وجود کا معلوم ہوتا ہے۔میں نے مصافحہ کیا۔اتنے میں میرے چا بھی آپہنچے۔انہوں نے جھٹ مصافحہ کیا۔میں نے تب جان لیا کہ یہی حضرت اقدس ہیں۔لوگوں سے مصافحہ کرنے کے بعد نواب علی محمد خان ساکن جھجر والے نے میرے چچا اس دن حضور ڈپٹی امیر علی والے مکان میں جو حضور کے واسطے تجویز کیا گیا تھا، ٹھہرے۔اور کھانا وغیرہ کھایا۔اگلے دن منشی رحیم بخش صاحب نے منشی احمد جان صاحب اور چچا صاحب سے کہا۔آج ہمارے ہاں دعوت قبول ہیں۔راستہ میں مولوی عبد العزیز کا آدمی ملا کہ وہ بلاتے ہیں ، ان کا مکان قریب ہی ہے۔وہاں چلیں۔منشی احمد جان نے کہا۔جاؤ ان کو کہدو۔کہ اگر ملنا ہے تو حضور کی جائے قیام پر آجائیں۔اور حضرت کی خدمت میں ☐