سیرت احمد

by Other Authors

Page 43 of 131

سیرت احمد — Page 43

73 72 تمہیں رکھنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا۔حضرت روٹی کہاں سے کھاؤں۔بلکہ معکوسی ترقی ہونے لگی۔آخر میں نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ ایک آپ نے فرمایا۔جب وہ رکھیں گے روٹی بھی دیویں گے۔اگر نہ دیں ہمیں دریا ہے میں اس میں خود کو دتا ہوں۔اچھلتا ہوں۔نہاتا ہوں۔اس کے پانی اطلاع کرو۔ہم بندوبست کر دیں گے۔آپ بے فکر رہیں خداوند تعالیٰ کے نیچے نہایت عمدہ ریت ہے۔اس کا پانی گھٹنوں تک تھا مگر تھوڑی دیر میں تمہاری روٹی کا انتظام کر دے گا۔چنانچہ کچھ دن ایک وقت کھانا مرزا غلام وہ پانی بالکل خشک ہو گیا۔مجھے جاگ آگئی۔اس کی تعبیر کچھ سمجھ میں نہ آئی۔قادر صاحب دیتے اور ایک وقت حضرت صاحب۔پھر مرزا غلام قادر کچھ دنوں بعد جب میں قادیان آیا۔حضرت صاحب مجھے ملے۔فرمایا حافظ صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب دونوں وقت کا کھانا ہمارے ہی ہاں کھایا تجھ کو کہا تھا کہ یہاں آجاؤ۔تو نہ آیا۔جب آپ نے یہ حکم فرمایا۔خدا نے کرو۔چنانچہ میں آٹھ نو ماہ رہا پھر مرزا غلام قادر صاحب کی وفات ہو گئی اور فورا اس خواب کی تعبیر میرے دل میں ڈال دی کہ وہ دریا قرآن تھا۔وہ تو پھر مجھ کو اجازت ہو گئی اور میں موضع ننگل چلا گیا۔اور وہاں جاکر قرآن خشک ہو گیا۔اب ترقی نہ ہو سکے گی۔اور جہاں کا تھا وہاں ہی رہ گیا۔میں ڈر شریف پڑھنا شروع کر دیا۔میں نے تقریباً دس یا گیارہ پارے قرآن شریف گیا۔میں نے زور سے کہا۔حضرت میری توبہ میں بھول گیا۔اب میں کے پڑھے تھے کہ ایک دن میں حضرت صاحب کے پاس آیا۔آپ گول کمرہ آجاؤں گا۔آپ نے فرمایا۔ہاں آجائے گا۔میں نے کہا ہاں حضور۔آپ کے آگے ایک تخت پوش پر تنہا بیٹھے تھے۔اس وقت مسجد مبارک تیار ہو گئی نے فرمایا پکا وعدہ ہے۔میں نے کہا۔ہاں حضور پکا وعدہ ہے۔آپ نے تھی۔مجھے بلا کر فرمایا حافظ ! اب تم بالکل ہمارے پاس آجاؤ۔اور اس مسجد فرمایا۔پھر تو یہاں سے نہ جائے گا۔میں نے کہا حضور نہیں پھر نہیں جاؤں میں اذان دیا کرو۔کیونکہ مجھے کام میں لگا رہنے کے باعث بعض وقت وقت گا۔آپ نے فرمایا اپنا بسترا اٹھا لاؤ۔چنانچہ میں گیا اور بسترا اٹھالایا۔اور گول تنگ ہو جاتا ہے۔اگر مسجد میں اذادن ہو وے تو ہمیں پتہ لگ جاوے اور نماز کمرہ میں رکھ دیا۔تھوڑی دیر بعد حضرت صاحب تشریف لائے۔فرمایا اول وقت پر پڑھی جایا کرے۔اگر تم اب نہ آئے تو یاد رکھو کہ پھر خدا کی حافظ ! تجھے کہا تھا مگر تو نہ آیا۔میں نے کہا حضرت میں تو آگیا۔بستر بھی لے آیا بہت مخلوق میرے پاس آجائے گی اور پھر تم کو یہاں جگہ نہ ملے گی۔اور پھر ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا بستر بھی لے آیا ہے ؟ میں نے عرض کیا حضور لے پچھتاؤ گے۔میں نے عرض کیا۔حضرت قرآن شریف پڑھتا ہوں۔وہ ختم ہو آیا ہوں۔آپ نے فرمایا اب تو تو نہ جائے گا۔میں نے عرض کیا نہیں حضور جائے تو آسکتا ہوں۔آپ نے فرمایا جو پڑھ لیا ہے وہی کافی ہے۔اب یہاں اب نہیں جاؤں گا۔چنانچہ اس دن سے میں نے در دولت پر رہائش شروع آجاؤ۔میری بد قسمتی میں نے نہ مانا۔اور خاموش ہو کر چلا گیا۔وہاں جا کر کردی اور مسجد میں اذان دیا کرتا تھا۔دس پانچ دن بہت کوشش کی کہ کچھ ترقی کروں۔مگر سبق یاد ہی نہ ہو تا تھا آپ اکثر دفعہ مجھ سے پنجابی کے شعر سنا کرتے تھے۔جو عورتیں یا بچے