سیرت احمد — Page 39
65 64 لے آؤ۔خدا ان کا بھی مالک ہے۔اور آپ نے جیب سے نکال کر دو روپیہ سنیں۔پھر ہم نے پوچھا وہ حاجی کہاں ہے۔اس نے کہا۔تکیہ میں ہے۔دئے اور فرمایا۔یہ کپڑے اتار دو۔ان کے (روپوں کے) کپڑے لیکر تھ چنانچہ ہم تکیہ میں گئے۔دیکھا وہ (جعلی حاجی) چرس پی رہا ہے۔کئی تسبیح گلے میں ہیں۔رنگے ہوئے کپڑے ہیں ہر ایک کے سوال پر وہی بات مذکور سناتا کرتہ بنا لو اور نماز پڑھا کرو۔ہے۔ہم چلے گئے۔کئی دن بعد پھر آئے۔مرزا امام الدین ملے۔انہوں نے کہا۔لو بھئی مرزا غلام احمد ہمارے دم میں نہیں آتا۔اس نے خط لکھا ہے کہ جب حضور نے دعوئی امام الدین کا بنایا ہو ابناوٹی عرب مہدویت کیا آپ میں نے دعوت اسلام دی ہے۔مبارک ہے وہ جو اس میں شامل ہو۔میری بیعت میں نے جس دن بیعت کی اس دن میں نے کچھ پتاشے لا کر آگے رکھے ، حافظ حامد احمد علی آئے اور عرض کیا کہ لودھیانہ تھے۔قادیان میں خبر آئی کہ دعوی کیا ہے۔مگر چند دنوں بعد ہمارے گاؤں میں افواہ اڑی کی ایک عرب مدینہ سے آیا ہے، وہ کہتا ہے حضرت رسول کریم نے مجھے خواب میں بتایا ہے کہ مہدی قادیان میں ہے۔چنانچہ بہت سے لوگ ہمارے گاؤں سے اور دیگر بہت سے لوگ اور دیہات کچھ مہمان جو کپور تھلہ کے آئے ہوئے ہیں ان کے لئے چاء تیار ہے میٹھی سے دار الامان آئے۔(حضرت صاحب لو دھیانہ میں ہی تھے ) کیا دیکھتے ہیں مرزا امام الدین کے گھر مجمع ہے۔میرے بھائی کے ساتھ مرزا امام الدین کا تعلق تھا۔انہوں نے اس کو اپنے پاس بلالیا۔میں بھی پاس جا بیٹھا۔میرے بھائی نے کہا وہ حاجی کہاں ہے۔انہوں نے کہا تو دوست ہے تجھ کو اصل حقیقت بتا تا ہوں۔وہ حاجی نہیں ہے وہ جالندھر کا رہنے والا فقیر ہے۔اس کو ہم نے مشورہ سے ایسا کرنا سکھایا ہے۔اور چونکہ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہے ہم نے اس طرح اس کی تائید کی ہے اور ایک خط مرزا صاحب کو لودھیانہ لکھ دیا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے ایسا سامان کیا ہے اور بھی مدد کریں گے مگر اپنے کام میں ایک پتی ہماری رکھ لو۔دیکھئے کیا جواب آتا ہے کام تو اس نے چھیڑا ہے۔بہت روپیہ کماویں گے۔میں نے یہ باتیں خوب بناؤں۔آپ نے فرمایا ہاں۔میاں نور محمد نے چاہ سے (یعنی محبت سے) بیعت کی ہے۔ان کے لئے چاء میں پتاشہ ڈالو۔آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے رہتے۔بشاشت چہرہ پر رہتی تھی۔ایک روز میں دو بجے مسجد مبارک میں آیا تہجد پڑھنی تھی۔نماز تہجد اندھیرا تھا۔جب مسجد میں داخل ہوا۔اندھیرے میں آدمی کا سانس معلوم ہوا۔میں آگے بڑھا۔دیکھتا ہوں حضور چٹائی پر لیٹے ہیں۔سر کے نیچے کہنی رکھی ہے اور سو رہے ہیں۔میں نے نماز پڑھی۔فارغ ہو کر آہستہ آہستہ پاؤں دبانے لگا۔حضور بیدار ہوئے۔فرمایا نماز کا وقت ہو گیا۔میں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا میں ابھی وضو کر کے آتا ہوں۔چنانچہ اندر