سیرت احمد

by Other Authors

Page 37 of 131

سیرت احمد — Page 37

61 60 آگیا۔پھر یہ الہام مشہور ہو گیا۔یہاں تک کہ حافظ سلطانی نے جو حضرت صاحب کے پاس رہتا تھا۔اس نے امر تسر جا کر مولوی غلام علی سے ذکر کیا۔پہلی خواب میں نے دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب اس جگہ جہاں بورڈنگ ہے۔انہوں نے فرمایا۔اس الہام کے معنی یہ ہیں کہ مرزا صاحب کے گھر میں لڑکا ایک بہت بڑا چبوترا بنا رہے تھے۔ان دنوں یہ زمین غیر آباد تھی۔اور ہو گا۔حافظ غلام احمد صاحب امر تسر سے آئے۔انہوں نے کہا کہ مولوی جھاڑیوں کی کثرت کی وجہ سے گزرنے والے کو ڈر لگتا تھا۔غلام علی کہتے ہیں کہ الہام مذکور سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ کے حسین لڑکا دوسری خواب ہو گا۔پھر اس کے متعلق اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ اور نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ الهام ہوئے۔میں دیکھتا ہوں کہ گاؤں سے باہر اراضی دیمہ میں ایک سوار کھڑا ہے۔اس کے پاس سبز گھوڑا ہے۔اور برقعہ پہنا ہوا ہے۔میں دوڑا دوڑا آیا۔کیونکہ حضرت صاحب کو نکاح کے متعلق بار بار الہام ہوتے تھے۔اور ایک اور آدمی نظر آیا۔میں نے پوچھا۔یہ کون ہے۔اس نے کہا حضرت جب بار بار الہام ہوئے تو نکاح کی تجویز ہوئی۔میر ناصر نواب صاحب سے یوسف علیہ السلام ہیں۔تھوڑا سامنہ دکھایا پھر نہ معلوم کہاں چلے گئے۔تیسری خواب خط و کتابت ہوئی۔انہوں نے ہاں کر لی۔میں نے دیکھا ہمارے گھر میں مختلف رنگ و مختلف قد و قامت کے بہت سے پرندے ہیں۔ایک مرغ جتنا جانور سب سے بڑا ان میں ہے وہاں ایک روایات ۳۱ شیخ نور احمد صاحب مختار عام حضرت صاحبزادہ صاحب شخص کو میں نے دیکھا جس سے میں نا آشنا تھا۔میں نے پوچھا۔یہ پرندے کیا جن دنوں حامد علی یہاں آیا اس کو ضعف کی بیماری تھی۔ہمارا گاؤں ہیں۔اس نے کہا۔بڑا پرندہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔موضع کھارا یہاں سے دو کوس ہے۔وہاں ایک تھہ ہے ( حافظ حامد علی بوجہ یہ تینوں خواہیں میں نے حامد علی کو سنا ئیں۔وہ مجھے لے کر قادیان آیا۔برادری میرے واقف تھے) یہ وہاں میرے پاس نور کی تلاش میں گئے۔حضرت مسیح موعود گول کمرہ والی جگہ ٹہل رہے تھے۔حافظ حامد علی نے کہا۔میری عمر بارہ سال کی تھی۔میں نے تین خواہیں متواتر تین راتوں میں دیکھی یہ لڑکا متاب خان کھارا والا ہے اور وہ گذشتہ خواہیں سنائیں گئیں۔آپ تھیں۔وہ میں نے حافظ حامد علی کو سنانی شروع کردیں۔نے میرے شانہ پر ہاتھ رکھا اور ٹہلتے ٹھملتے خواب سنے۔جب خوابیں منا چکا تو آپ نے تبسم لب ہو کر فرمایا۔دو خوابوں کی تعمیر یہ ہے :- حضرت یوسف کا 1 I i i