سیرت احمد — Page 36
59 58 حضرت عیسی علیہ السلام کے ہمرتبہ کوئی آدمی ہو گا جس کی تم خدمت کرو گے۔اور تمہارا خاندان کرے گا۔حساب کا معاملہ :- آخر عمر تک مجھ سے کبھی حساب نہیں مانگا۔اور نہ تقریباً پچاس روپے واپس لایا۔اس کا حساب میں نے حضرت صاحب کو دیا۔کبھی ناراض ہوئے۔بلکہ ایک دفعہ میں لاہور گیا۔مولوی نورالدین جب میں آیا اپنے ساتھ تقریباً چار سیر پختہ آٹا لایا۔آپ نے فرمایا۔آٹا صاحب نے سات سو کی ہنڈی روانہ کی تھی وہ لیکر گیا۔کچھ اسباب لایا۔کیوں لائے ہو۔تمہارا خدا رازق ہے۔اس کی ضرورت نہیں۔چند روز رہتے ہوئے گزرے تھے۔فرمایا کہ تیرا خیال جو جانے کے آپ نے فرمایا میں نے کب مانگا ہے۔متعلق ہے۔یہ درست نہیں کہ تو واپس جاوے دوائی تو ہم دے دیں گے مگر ایک روپیہ ۸ آنہ کی غلطی اور پگڑی والا معاملہ :- تھوڑی دیر بعد میں وہاں دوائی سے فائدہ نہ ہو گا۔پھر فرمایا اصل بات یہ ہے کہ میرا دل نہیں گیا اور دیکھا کہ حساب میں ایک روپیہ ۸ آنہ کی کمی تھی۔آپ نے فرمایا تم چاہتا کہ تو جائے اور زمیندارہ کام کرے۔کیونکہ قرآن شریف میں خود ہی ابتلاء میں آئے۔میں نے کب حساب مانگا تھا۔آخر تلاش ہوئی ایک ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلّة وَالْمَسْكِنَة جو ہے وہ زمینداروں کے حق روپیہ ۸ آنہ کہاں گیا۔دیر بعد یاد آیا۔حضور کے پاس پگڑی نہ تھی، جانے میں ہے اور صحیح بخاری کی آخری حدیثوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ سے پہلے فرمایا تھا ایک روپیہ ۸ آنہ کا دوپٹہ۔یہاں بازار سے ہی لے آؤ۔وسلم نے زمیندارہ کے آلات دیکھے فرمایا جن کے گھر میں ہونگے وہ ہمیشہ میں نے وہ یاد کرایا۔فرمایا ٹھیک ہے۔ذلت میں رہیں گے۔ان میں اکثر دیندار نہ ہونگے۔یہی وجہ ہے کہ میں چاہتا ایک دفعہ حضرت صاحب بیمار تھے میں پاؤں دبار ہا تھا حضور کے ٹانگوں پر ہوں کہ تم یہاں رہو۔میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔پھوڑے نکلے ہوئے تھے۔آپ بہت کمزور ہو گئے تھے۔فرمایا۔میں بہت آپ نے فرمایا۔میں نے اپنے پاس آسمان سے نان پکا پکا یا اتر تا دیکھا ہے (یا کمزور ہو گیا ہوں۔اب تالیف کی امید نہیں۔براہین احمدیہ کے چار کے چار آگیا ہے) آواز آئی یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہی حصہ رہ جائیں گے۔یہ باتیں کرتے ہی الہام ہوا۔جس کا ترجمہ یہ ہے۔ہے۔اسی واسطے میں چاہتا ہوں کہ تم ان میں سے ہو جاؤ اور آسمانی کھانے کیا ہم تھک گئے ہیں اور پھر نہ کر سکیں گے۔" آپ نے فرمایا یہ خوشخبری میں شریک ہو جاؤ۔کچھ دن میر عباس علی، منشی عبد الحق اکو شنٹ لاہور کبھی ہے ممکن ہے خدا وہی طاقت یا اس سے بڑھ کر دے۔انہیں دنوں میں الہام کبھی آیا کرتے تھے یا مولوی غلام رسول دینا نگر کے جو پشاور کے صدر قانون وا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِيْن اس الہام پر صبح آٹھ بجے ایک لڑکا گوتھے آیا کرتے تھے۔یا کبھی گردو نواح کے آدمی یونہی ملنے آجاتے تھے۔سیدان کا آیا۔اور وہ لڑکا تقریباً دس سال کا ہو گا ، وہ خوبصورت بھی تھا۔جمعہ میں ان دنوں کبھی تین کبھی چار آدمی ہوتے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔صبح ہی الہام ہو ا تھا۔اس الہام کے مطابق یہ لڑکا