سیرت احمد — Page 33
53 52 کورٹ انسپکٹر پولیس نے مصافحہ کیا تو آپ نے ذرا آنکھ اٹھائی اور ان سے دیں گے۔مگر تم سوچو یہ قابل علاج ہے۔اللہ اللہ کرو۔اور اگر کچھ علاج آنکھ ملائی اور ہنس کر فرمایا۔اوہو آج تو چوہدری صاحب بھی اس طرح مصافحہ کرتے ہیں۔چوہدری صاحب نیچی نگاہ کئے ہوئے کھڑے رہے۔حضرت صاحب نے دیر بعد ان کا ہاتھ چھوڑا۔جب ہاتھ چھوڑا تو وہ آگے چاہتے ہو تو حضرت صاحب کو دعا کے لئے عرض کرو۔ایسے مریض دعا سے راضی ہو سکتے ہیں۔دوا کی حد سے تو یہ گذر گئی ہے۔پھر میرے والد صاحب نے آکر علیحدہ طور پر میری والدہ صاحبہ سے کہدیا کہ حکیم صاحب نے علاج بڑھ گئے۔جب سب لوگ مصافحہ کر چکے تو آپ پھر چلنے لگے اور فرمایا آج کا سے جواب دیا ہے۔حضور سے جاکر کہو کہ دعا فرماویں۔چنانچہ میری والدہ جمعہ تو عید ہو گیا۔صاحبہ نے مجھے سمجھا دیا اور مجھے حضرت صاحب کے پاس بھیجا۔میں آہستہ روایت ۲۸ اہلیہ مولوی قدرت اللہ سنوری آہستہ وہاں پہنچ گئی۔میں نے موقعہ پاکر سارا حال عرض کیا اور کہا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے جواب دے دیا کہ راضی نہیں ہو سکتی۔حضور اس وقت کچھ لکھ رہے تھے کہ میں نے رو رو کر اپنا حال بیان کیا تو آپ ابھی میری شادی نہ ہوئی تھی کہ میں سخت بیمار ہو گئی۔تپ اور کھانسی نہ نے کام چھوڑ دیا اور سارا حال توجہ سے سنا اور فرمایا کہ اچھا ہم دعا کریں جاتا تھا۔کوئی دق بتاتا تھا کوئی کچھ۔آخر میرے والد نے گھر میں آکر ذکر کر دیا کہ حکیم لوگ لڑکی کی بیماری کو لا علاج ٹھراتے ہیں۔مجھ کو بھی خبر ہو گئی۔گے۔اور جاؤ مولوی صاحب سے اسی وقت کو نین کی گولیاں لاؤ۔میری والدہ نے کونین کی گولیاں مولوی صاحب کے پاس سے لا کر حضرت صاحب میں نے اپنے والد سے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ مجھے قادیان لے کو دے دیں۔آپ نے دو دو گولیاں ایک ہفتہ کے کھانے کے لئے دیں۔چلیں۔اگر خدا کو منظور ہوا شائد میں راضی ہو جاؤں۔میرے والد نے کہا بات تو ٹھیک ہے انشاء اللہ ہم تجھے قادیان لے چلیں گے۔چنانچہ تھوڑے عرصہ بعد میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ قادیان آئے۔اور مجھے بھی ساتھ اٹھالائے۔میری حالت بہت نازک تھی۔جب ہم دار الامان میں پہنچے اور فرمایا گلو کے پانی کے ساتھ ان کو کھایا کرنا اور میں دعا کروں گا۔ایک ہفتہ کے اندرہی مجھ کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور حضور کی دعا سے صحت حاصل ہو گئی۔اور اس لاعلاج مرض کی جڑھ جاتی رہی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا میں نے نہ کہا تھا کہ دواؤں سے نہیں بچ سکتی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں رہنے کے لئے وہ کمرہ عطا میں نے تجربہ کیا ہے کہ ایسے بیمار ایک فیصدی بھی نہیں بچ سکتے۔یہ حضور کی فرمایا جس کا نام بیت الذکر ہے ، میرے والد صاحب نے مجھ کو حضرت مولوی نور الدین کے پیش کیا کہ اس کا علاج کریں۔آپ نے کہا۔اچھا علاج تو کر دعا کا نتیجہ ہے کہ یہ بچ گئی اور تندرستی ہو گئی۔ورنہ کوئی پہلو زیست کا باقی نہ تھا۔! : '