سیرت احمد — Page 32
51 50 ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔اور تقریباً ایک گھنٹہ اندر ٹھرے جب حضور ہو ئیں ، وہ سب دفاعی تھیں۔اسلام کا تلوار سے پھیلنا یہ غلط عقیدہ مخالفوں واپس آئے۔اس قدر انبوہ مخلوق کا ساتھ تھا کہ ایک دوسرے پر گرے نے گھڑ رکھا ہے۔اور آپ نے فرمایا۔صاحب فنانشل کمشنر نے اور بھی پڑتے تھے۔پانچ آدمیوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر حلقہ بنایا۔درمیان میں حضور کو لے لیا۔تاکہ مخلوق کے دھکوں سے حضرت صاحب کو تکلیف نہ ہو۔ان پانچوں میں ایک میں بھی تھا۔میں نے دیکھا حضرت باتیں کرنا چاہیں وہ دنیاوی باتیں تھیں۔میں نے کہا آپ دنیا وی حاکم ہیں۔خدا نے مجھے دین کے لئے یعنی روحانی حاکم بنایا ہے۔جس طرح آپ کے وقت کاموں کے لئے مقرر ہیں ، اسی طرح ہمارے بھی کام مقرر ہیں۔اور صاحب بڑے بشاش تھے۔آپ بازار کے راستہ سے گھر کو تشریف لائے۔ہماری نماز کا وقت ہو گیا۔یہ کہکر ہم کھڑے ہو گئے۔فرمایا صاحب بہادر بھی جب بازار کے قریب پہنچے۔ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور حضرت صاحب کے برابر آکر کہا حضور پیچھے ایک عجب بات ہوئی۔آپ نے فرمایا کیا۔اس ٹوپی اتار کر سلام کیا۔اور ٹھر گئے۔ہم چلے آئے۔نے عرض کی حضور جب کیمپ کے دروازے سے نکلے تو ہزاروں کی تعداد کھڑے ہو گئے اور خوش خوش ہمارے ساتھ خیمہ سے باہر تک آئے اور جن دنوں میں فنانشل کمشنر صاحب آئے ہوئے تھے ، ایک جمعہ بھی ان میں لوگ موجود تھے۔حضور کے ساتھ ہی سب لوگ دوڑ پڑے اور کیمپ کا دنوں میں آیا۔حضور جمعہ میں تشریف لائے۔جماعت احمدیہ کا خدا کے فضل سے بڑا انبوہ ہو گیا۔تقریباً دو ہزار یا اس سے زیادہ مہمان بھی آئے تھے۔ارد گرد خالی ہو گیا اور صاحب فنانشل کمشنر اور ان کے ساتھ جو اور انگریز کھڑے تھے۔انہوں نے تالیاں بجائیں اور کہا دیکھو کس طرح لوگ جمعہ تقریباً دو بجے کے بعد ہوا۔آپ نے فرمایا عصر بھی ساتھ ہی پڑھ لی روڑے جاتے ہیں۔اور ہنس ہنس کر مخلوق کو دیکھتے تھے۔آپ پھر چل جاوے۔نماز سے فارغ ہو کر آپ چلنے لگے۔جب باہر والی محراب میں یعنی پڑے۔راستہ میں حضور اس قدر انبوہ سے ذرہ نہ گھبرائے بلکہ ہشاش بشاش جہاں نمبر رکھا ہوا ہے۔تشریف لائے تو آپ وہاں ٹھر گئے اور دیوار کے چلے آتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہم نے خوب کھول کھول کر تقریباً پندرہ قریب ہو کر کھڑے ہو گئے۔لوگوں کو فرمایا کہ اسی جگہ مصافحہ کر لیں۔اور منٹ صاحب فنانشل کمشنر کو اسلام کی خوبیاں سنائیں اور ہم نے اپنی طرف مسجد کے اندر کی طرف سے لوگ آکر مصافحہ کر کے گذرتے جائیں۔تاکہ سے حجت پوری کر دی۔اور عقائد مہدی خونی کا سوال صاحب نے ہم سے سب کا مصافحہ ہو جائے۔میں دروازہ کی دوسری طرف دیوار سے لگ کر ممبر کیا۔ہم نے بتا دیا کہ ہمارے فلاں فلاں رسالہ کو دیکھو ہم خونی مہدی کے کے پاس کھڑا ہو گیا کہ دیر تک زیارت کر تار ہوں۔آپ لوگوں سے مصافحہ عقیدہ کو غلط سمجھتے ہیں۔ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ دین اسلام دلائل قویہ اور کرتے جاتے تھے۔آنکھیں نیچی کئے ہوئے گا ہے مسکراتے تھے۔اگر کوئی نشانات آسمانی سے پھیلا ہے اور آئندہ پھیلے گا اور جو جنگیں اسلام میں السلام علیکم کہتا۔آپ وعلیکم السلام فرماتے تھے۔جب چوہدری رستم علی