سیرت احمد — Page 27
41 40 والے کا ترجمہ ان سے عربی میں کراؤ۔اور وہ پیشگوئیاں بھی کثرت سے کرے اور کچی ہوں اس کا ترجمہ عربی میں سوائے نبی کے اور ہو ہی نہیں سکتا۔آپ کی قوت اعجازی کا یہ کمال تھا کہ اکثر دفعہ ایسا واقعہ ہوا کہ مہمان مہمان خانہ میں بیٹھ کر باتیں کرتے کہ آج حضرت صاحب سے نماز کے بعد فلاں فلاں سوالوں کا جواب پوچھیں گے۔مگر جب حضرت نماز کے بعد تشریف فرما ہوتے تو اور جماعت کے عام لوگ آگے ہو جاتے اور حضور کے کہ ایک رشتہ کی تجویز ہوئی ہے تم قادیان آجاؤ۔چنانچہ میں دارالامان میں آ گیا۔جب وہ ملے تو انہوں نے کہا وہ شخص جو تم کو دیکھنا چاہتا ہے۔وہ تو آج چلا گیا ہے ایک اور جگہ رشتہ ہے اس کے لئے خانصاحب اکبر خان کو خط لکھ دیتا ہوں۔وہ کوشش کر کے کرا دیں گے۔تم خط لے کر جاؤ۔میں نے عرض کیا بہت اچھا۔انہوں نے خط لکھا۔جب خط ختم کرنے لگے تو کہا۔تبر کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اکبر خان کو سفارش کرادوں۔میں نے کہا بہتر۔انہوں نے اس خط کے آخر پر لکھ دیا کہ حضرت بالکل قریب ہو جاتے تو آپ گفتگو شروع کر دیتے اور مہمان انتظار کرتے کہ (مسیح موعود) آپ بھی تبر کا سفارش فرما دیں۔اور وہ خط حضرت مسیح اب یہ گفتگو ختم ہو تو پوچھ لیں گے یا حضور خود کچھ فرمانے لگتے تو ٹھہر جاتے کہ جب حضور فرما چکیں گے۔تو پھر سوال کریں گے۔مگر اللہ اللہ حضور کی قوت اعجازی کہ اس سلسلہ گفتگو میں حاضرین کے ۹۰ فیصدی سوالوں کے جواب ہوتے۔اور مجھے تو اکثر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مہمان دوسرے کو اشارہ کرتا کہ لو۔تمہارے سوال کا جواب تو خود ہی مل گیا۔دوسرا دوسرے تعلق تھا۔اور اللہ تعالٰی حضور کو ایسے ڈھنگ پر گفتگو کرنے کا موقع دیتا کہ نہ سائلوں کو تکلیف ہو اور نہ حضور کو بار بار ہر ایک کے سوال کا جواب دینا موعود کی خدمت میں اوپر بھیج دیا۔آپ نے فورا اس خط پر سفارش لکھ دی اور یہ لکھا کہ میاں قدرت اللہ ہمارے میاں عبداللہ صاحب سنوری کے بھیجے ہیں اور مخلص احمدی ہیں۔میں آپ کو سفارش کرتا ہوں آپ کو شش کر کے ان کے لئے رشتہ کرا دیں۔جب یہ خط ملا تو مکرم عبد اللہ سنوری صاحب نے مجھ سے کہا کہ جلدی کو کہتا۔اسی طرح تقریبا سب کے سب تسلی کر کے اٹھتے اور کسی کو بھی سوال چلے جاؤ میں نے کہا۔حضرت صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔کیونکہ حضور کرنے کی حاجت نہ ہوتی۔یہ دلیل ہے کہ حضور کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کامل کی طبیعت اچھی نہ تھی۔آپ باہر تشریف نہ لائے تھے۔اس لئے میں بغیر ملے کے نہیں جاسکتا۔اس دن ایک بڑے آدمی نے مصافحہ کرنا چاہا تھا اور حضور نے باہر تشریف لانے سے انکار کر دیا تھا۔مکرم عبد اللہ سنور صاحب نے کہا آج ملنا مشکل ہے تم چلے جاؤ۔میں نے عرض کی کہ بغیر ملے تو میں میری پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا اور دوسری شادی کی ضرورت تھی۔نہیں جاتا۔رشتہ جاتا ہے تو جائے ملاقات کے بغیر قادیان سے جانا موت سے مکرم عبد اللہ صاحب سنوری قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔ان کا خط گیا بڑھ کر ہے۔انہوں نے ایک خدمتگارہ کو کہہ دیا کہ حضرت صاحب کے پاس پڑے۔